اضلاع میں شدید بارش، عام زندگی متاثر، نشیبی علاقے زیر آب

ا ضلاع میں کئی مقامات پر نشیبی علاقوں کے مکانات میں پانی داخل ہوگیا جس کے سبب اشیائے ضروریہ اور دیگر سازو سامان کو نقصان پہنچا۔ آئی اے این ایس کے مطابق تلنگانہ کے اضلاع وقارآباداور رنگاریڈی میں دوعلحدہ واقعات میں ایک دلہن کے بشمول 5 افراد‘سیلاب میں بہہ گئے۔

حیدرآباد۔30: تلنگانہ میں گذشتہ24 گھنٹوں کے دوران بارش سے مربوط علیحدہ واقعات میں 6افراد ہلاک ہوگئے جن میں 3 دن کی ایک دلہن بھی شامل ہے۔ ریاست کے مختلف مکانات پر گذشتہ 3دنوں سے وقفہ وقفہ سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب جہاں عام زندگی درہم برہم ہوگئی وہیں تالاب، کنٹے، لبریز ہوگئے اور چھوٹی بڑی ندیوں میں طغیانی آگئی۔

ا ضلاع میں کئی مقامات پر نشیبی علاقوں کے مکانات میں پانی داخل ہوگیا جس کے سبب اشیائے ضروریہ اور دیگر سازو سامان کو نقصان پہنچا۔ آئی اے این ایس کے مطابق تلنگانہ کے اضلاع وقارآباداور رنگاریڈی میں دوعلحدہ واقعات میں ایک دلہن کے بشمول 5 افراد‘سیلاب میں بہہ گئے۔

بچاؤ کارکنوں نے پیر کے روزمارپلی منڈل میں تماپورکی ندی سے3 نعشوں کو برآمد کرلیا ہے جبکہ مزید ایک کی تلاش جاری ہے۔ ایک کار جس میں نوبیاہتا جوڑے کے بشمول 6 افراد سوار تھے‘ اتوارکی شب ندی کوعبورکرنے کے دوران سیلاب میں گھرگئی۔شدیدبارش کے سبب ندی میں طغیانی آئی ہوئی تھی۔

مقامی افراد نے نوشہ نواز ریڈی اوران کی بہن رادھماں کوبچالیا۔ماہی گیروں اور غوطہ خوروں کی مددسے پولیس نے 3نعشوں کو برآمد کرلیا جن کی شناخت دلہن پراولیکا‘دلہن کی ہمشیرہ شروتی اور ڈرائیوررگھویندر ریڈی کی حیثیت سے کی گئی۔مزیدایک لڑکے کی تلاش جاری ہے جو سیلاب میں بہہ گیا۔

نوازریڈی اور پراولیکاکی شادی 26اگست کو انجام پائی تھی۔ شادی کے بعدوالی تقریب میں شرکت کے لئے یہ جوڑا‘کل رشتہ داروں کے ساتھ مومن پیٹ گیاتھا اور وہ اتوار کی شام راولاپلی سے روانہ ہوا۔ اس علاقہ میں مسلسل بارش کی وجہ سے ندی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا۔ ڈرائیورنے اس یقین کے ساتھ کارکو آگے بڑھادیا کہ گاڑی بغیر کسی مشکل کے آگے نکل جائے گی تاہم یہ کار سیلاب میں گھر گئی جس کے نتیجہ میں 4 افراد بہہ گئے۔

اس طرح کے ایک اور واقعہ میں ایک کار سیلاب میں بہہ گئی یہ واقعہ ضلع رنگاریڈی کے شنکرپلی منڈل کے موضع کتہ پلی میں کل شب پیش آیاجس میں ایک 70سالہ معمرشخص ہلاک ہوگیا جبکہ دیگر 4 افراد اپنی جانیں بچانے میں کامیاب رہے۔پولیس نے پیر کے روز وینکٹیا کی نعش برآمد کرلی۔

یہ تمام افراد چیوڑلہ منڈل کے موضع کوکنٹلہ میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد میں اپنے آبائی مقام ین کنتھالہ واپس ہورہے تھے کہ ان کی کارجس میں یہ افراد سوارتھے‘ندی میں پھنس گئی جہاں پانی بہت زیادہ تھا۔ چارافراد کسی طرح گاڑی سے باہر نکل کر بحفاظت کنارے پر پہونچ گئے مگر وینکٹیا کارکے ساتھ بہہ گئے۔

پی ٹی آئی کے مطابق ضلع یدادری بھونگیر کے راجہ پیٹ منڈل میں ایک25سالہ خاتون فوت ہوگئی۔ وہ، دیگر2 افراد کے ساتھ بائک پر ندی کے برج کو عبور کررہی تھی کہ بائک گرپڑی جس کے نتیجہ میں یہ تینوں گرپڑے جس کی وجہ سے پانی کے ایک طاقتور ریلا نے خاتون کو بہا لے گیا۔ کچھ دور سے اس کی نعش دستیاب ہوئی۔ بائک چلانے والا کسی طرح بچ گیا۔

جبکہ دوسری خاتون کی تلاش جاری ہے۔ گذشتہ 3دنوں سے جاری وقفہ وقفہ سے بارش سے تمام ندی اور نالوں میں طغیانی آگئی اور پلوں کے اوپر سے پانی بہہ رہا ہے۔ کئی مقامات پر نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ منگل کے روز ریاست کے اضلاع میں کہیں کہیں انتہائی شدید بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ضلع سرسلہ کے ملارام کے مقام پر پیر کی شام تک سب سے زیادہ101.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت پر چیف سکریٹری اور ڈی جی پی نے اضلاع کے کلکٹرس، ایس پیز اور پولیس کمشنرس کو چوکسی کی ہدایت دی ہے۔ یو این آئی کے مطابق شہر حیدرآباد سمیت ریاست کے اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔گذشتہ تین دنوں میں ضلع متحدہ نلگنڈہ میں بارش کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامناکرناپڑرہا ہے۔

کئی مقامات پر ایک تا دو سنٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجہ میں مقامی تالاب لبریز ہوگیا اور پانی مکانات میں داخل ہوگیا۔ سڑکوں پر بھی پانی کے آجانے کے سبب راہگیروں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔گُورم پاڈو منڈل کے پوچم پلی دیہات میں مادنا تالاب کے لنک کنال کا پانی مکانات میں داخل ہوگیاجس کے سبب کئی افراد کو مکانات کے باہر رات گذارنے کیلئے مجبور ہوناپڑا۔بارش سے کئی مکانات کو نقصان بھی پہنچا۔

اسی دوران نلگنڈہ کے نیڈومامورومنڈل کے موپم واگو تالاب کے قریب بنائی گئی عارضی سڑک بہہ گئی اور اس کیلئے ڈالے گئے سمنٹ کے پائپس پانی کی نذر ہوگئے اورعلاقہ کی ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔اسی دوران ضلع کریم نگر میں بارش کے سبب ضلع بھر میں تالاب اور کنٹے لبریز ہوگئے۔کریم نگر ضلع مستقرسمیت جمی کنٹہ، حضورآباد کے نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ضلع میں سب سے زیادہ 110ملی میٹر بارش جمی کنٹہ میں درج کی گئی۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.