انٹر امتحانات، لمحہ آخر میں مداخلت سے تلنگانہ ہائی کورٹ کا انکار

تلنگانہ اسٹیٹ پیارنٹس اسوسی ایشن نے عرضی داخل کرتے ہوئے انٹر سال اول کے امتحانات کو منسوخ کرنے پر زور دیا اور عدالت العالیہ سے اس بات کی بھی خواہش کی کہ جن طلبہ کو پروموٹ کیا گیا ہے، ان کیلئے امتحانات منعقد کرنے کی اجازت نہ دے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت، لمحہ آخر میں انٹر سال کے امتحانات کے انعقاد میں مداخلت نہیں کرے گی۔ امتحانات کا آغاز25/ اکتوبر سے ہوگا۔

عدالت العالیہ میں لنچ کے بعد انٹر امتحانات کے خلاف داخل کردہ عرضی کی سماعت ہوئی۔ تلنگانہ اسٹیٹ پیارنٹس اسوسی ایشن نے عرضی داخل کرتے ہوئے انٹر سال اول کے امتحانات کو منسوخ کرنے پر زور دیا اور عدالت العالیہ سے اس بات کی بھی خواہش کی کہ جن طلبہ کو پروموٹ کیا گیا ہے، ان کیلئے امتحانات منعقد کرنے کی اجازت نہ دے۔

عدالت نے درخواست گذار سے سوال کیا کہ اب جبکہ25/ اکتوبر سے امتحانات شروع ہونے والے ہیں، ایسے میں آپ عرضی کس طرح داخل کرسکتے ہیں؟۔ عدالت نے اسوسی ایشن سے کہا کہ آپ اپنی درخواست واپس لے لیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ انٹر میڈیٹ بورڈ نے پہلے ہی امتحانات کے انعقاد کی تیاریاں پوری کرلی ہیں۔ کورونا وبا کی وجہ سے تمام طلبہ کو دوسرے سال میں پروموٹ کردیا گیا ہے۔

درخواست گذار نے دعویٰ کیا کہ امتحانات کا انعقاد مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ جب طلبہ کو ایک بار پروموٹ کردیا گیا ہے اور یہ طلبہ سال دوم کے کلاسس میں بھی شریک ہورہے ہیں۔ ایسے میں ان طلبہ کو ایک بار پھر سال اول کے مضامین پڑھنے کیلئے دباؤ ڈالنا اور انہیں تذبذب میں مبتلا کرنا اچھا نہیں ہے اس لئے امتحانات کا انعقاد نامناسب ہے۔

حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انٹربورڈ نے سال اول کے امتحانات کے انعقاد کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ حالات کے مطابق ایسے طلبہ کا جنہیں سال دوم میں پروموٹ کردیا گیا ہے، دوبارہ امتحان لیا جارہا ہے۔ یہ طلبہ ماضی میں ایس ایس سی کا امتحان بھی نہیں دیا تھا۔ ایس ایس سی امتحانات کے بغیر ان طلبہ کو سال اول میں داخلہ دیا گیا تھا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.