بھینسہ میں دوسرے دن بھی دلتوں کا احتجاج، خواتین بھی شریک

پولیس اہلکار نے خواتین کو روکنے کی کوشش کی جس پر احتجاجیوں نے برہمی کے عالم میں پولیس پر حملہ کردیا اور احتجاجیوں اور پولیس جوانوں میں دھکم پیل ہوئی۔

بھینسہ۔: بھینسہ میں امبیڈکر مجسمہ کو نقصان پہنچانے کے خلاف آج دوسرے دن بھی احتجاج جاری رہا۔ اس احتجاج میں دلت طبقہ کی خواتین کی کثیرتعداد شریک تھی۔ دلتوں نے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے پولیس کو پریشان کر رکھا ہے۔

بس اسٹانڈ،نرمل چوراہا اور قومی شاہراہ 61 پر سینکڑوں خواتین احتجاج کرتے ہوئے نعرے بلند کررہی تھیں۔

پولیس اہلکار نے خواتین کو روکنے کی کوشش کی جس پر احتجاجیوں نے برہمی کے عالم میں پولیس پر حملہ کردیا اور احتجاجیوں اور پولیس جوانوں میں دھکم پیل ہوئی۔

اس دوران 4 خاتون پولیس ملازمین وجراماں، سریجا، سوما لتا، رمااکا زخمی ہوگئیں جن کے ہاتھوں پر زخم دیکھے گئے۔ جبکہ کئی مقامات پر مسافرین سے بھری گاڑیوں کو روکا گیا اور انہیں دھکیل دیا گیا۔ اس دوران احتجاجیوں نے امتحان میں شرکت کے بعد واپس جانے وا لی مسلم طالبات کے آٹورکشہ پر حملہ کی کوشش کی۔

لیکن یہاں موجود صحافیوں نے برہم خواتین کو روکتے ہوئے آٹو کو واپس لوٹا دیا اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے ربط پیداکرتے ہوئے طالبات پر حملہ کی کوشش سے واقف کروایا گیا۔بھینسہ میں حالات کے پیش نظر آج انٹرمیڈیٹ طلبہ کو امتحانی مراکز تک پہنچنے کے لئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ آج بسوں کو ٹاؤن میں داخل ہونے نہیں دیاگیا۔اور آٹورکشہ بھی بند تھے۔

ٹاؤن کے داخلہ کے راستوں پر پولیس کو متعین کردیا گیا جہاں کسی کو بھی ٹاؤن میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔ ہنگامی حالات کے پیش نظر مخصوص سواریوں کو آبادی میں جانے کی اجازت دی گئی۔ ٹاؤن میں آج صبح سے مکمل طور پربند دیکھا گیا۔ پولیس کی جانب سے دکانات کو بند کروایا گیا۔ تمام چھوٹے بڑے کاروبار مکمل طور پر بند رکھے گئے جبکہ بینکس،میڈیکل شاپس، ہوٹلیں، پان شاپس،ترکاری دکانات،کرانہ دکانات، خانگی مدارس مکمل طور پر بند رکھے گئے۔

ایڈیشنل ایس پی بھینسہ کرن پربھاکر کھارے، ایدیشنل ایس پی وینکٹیشورلو، سرکل انسپکٹرس پروین کمار، چندرشیکھر کے علاوہ دیگر نے احتجاجیوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن احتجاجی خاطی کو سولی پر لٹکانے یاپھر اس کاہاتھ کاٹنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس موقع پر امبیڈکر کی تصویر کو دودھ سے دھویا گیا۔ جبکہ شیواجی چوک اور بس ڈپو کے قریب احتجاج میں شدت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس کی جانب سے اسے ناکام بنادیا گیا۔

اس دوران ضلع ایس پی نرمل سی ایچ پروین کمار نے سڑک پر بیٹھی خواتین کے ساتھ سختی برتی اور کئی خواتین کو گرفتار کروایا جس کی وجہہ سے احتجاجی پرامن منتشر ہوگئے جس کے بعد کئی گھنٹوں سے مسدود ٹریفک کو بحال کرے میں مدد ملی۔ کل کے احتجاج کے دوران گرفتار دلت طبقہ کے نوجوانوں کو رہا کردیا گیا۔ ایڈیشنل ایس پی نے کل رات بتایا کہ امبیڈکر کے مجسمہ کو نقصان پہونچانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم اس ملزم کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.