تلنگانہ کے انجینئرنگ اور ڈگری کالجوں میں 2.50 لاکھ نشستیں خالی

کورونا وباء کی دوسری لہر کے سبب حکومت نے انٹرمیڈیٹ کے تقریباً 5لاکھ طلبہ کو امتحانات کے بغیر پروموٹ کردیا مگر اس کے باوجود اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کے اندراج کی شرح کم ہی ہے۔

حیدرآباد: رواں تعلیمی سال تلنگانہ کے مختلف انجینئرنگ اور ڈگری کالجوں میں 2.50لاکھ نشستیں خالی ہیں۔ انجینئرنگ اور ڈگری کے مختلف کورسس میں 2.50لاکھ نشستیں مخلوعہ ہیں۔

کورونا وباء کی دوسری لہر کے سبب حکومت نے انٹرمیڈیٹ کے تقریباً 5لاکھ طلبہ کو امتحانات کے بغیر پروموٹ کردیا مگر اس کے باوجود اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کے اندراج کی شرح کم ہی ہے۔

ریاست کے مختلف ڈگری کالجوں میں مختلف کورسس کی 2.19لاکھ نشستیں مخلوعہ ہیں جبکہ انجینئرنگ کی 31ہزار نشستوں پر داخلے ابھی دینا باقی ہے۔ ان نشستوں پر داخلوں کیلئے کئی بار کونسلنگ منعقد کی جاچکی ہے مگر طلبہ‘ کونسلنگ میں شرکت کیلئے نہیں آرہے ہیں۔

DOSTکے تحت جملہ 947کالجس میں داخلے دئیے جاتے ہیں۔ ان کالجوں میں جملہ 4,16,575نشستیں دستیاب ہیں۔ ان نشستوں پر داخلوں کیلئے اب تک تین بار کونسلنگ منعقد کی جاچکی ہے۔ اب تک صرف 1,96,691طلبہ نے کالجوں میں اندراج کرایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مزید 2لاکھ 22ہزار نشستیں ہنوز مخلوعہ ہیں۔

اقلیتی زمرہ کے مائناریٹی کالجوں (ڈگری کالجوں) میں مزید 6ہزار نشستیں خالی ہیں۔ ڈگری کالجوں میں مخلوعہ نشستوں کو پُر کرنے کیلئے عہدیدار‘ ایک بار پھر کونسلنگ منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

امکان ہے کہ انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈگری کالجوں میں داخلوں کی نئی کونسلنگ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

اس دوران حکام نے جاریہ تعلیمی سال سے دو سے زائد کالجوں میں نئے کورسس بھی متعارف کرائے ہیں مگر ان نئے کورسس (بی اے آنرس) میں طلبہ نے دلچسپی نہیں دکھائی۔ حیدرآباد کے نظام کالج‘ کوٹھی ویمن کالج اور بیگم پیٹ ویمن کالج میں بی اے آنرس کورس شروع کیا گیا ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.