جی او 111 مسئلہ، ہائی لیول کمیٹی پر ہائی کورٹ برہم

ہائی کورٹ نے حکومت کے رویہ پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کمیٹی کی تشکیل کے 4سال بعد بھی رپورٹ کے عدم ادخال کی وجہ کیا ہے؟ رپورٹ کے ادخال میں غیر ضروری تاخیر میں کیا حکومت کا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے؟۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے جی او111 جو کوکہ پیٹ اراضیات کی فروخت سے متعلق ہے پر سماعت کی اور سوال کیا کہ ہائی لیول کمیٹی نے چارسال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود اس جی او پر اپنی رپورٹ داخل کیوں نہیں کی ہے۔

عدالت العالیہ نے کمیٹی کو 13ستمبر تک اپنی رپورٹ داخل کرنے کا حکم د یا ہے بصورت دیگر ہائی لیول کمیٹی کو تحلیل کردیا جائے گا۔

ہائی کورٹ نے حکومت کے رویہ پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کمیٹی کی تشکیل کے 4سال بعد بھی رپورٹ کے عدم ادخال کی وجہ کیا ہے؟ رپورٹ کے ادخال میں غیر ضروری تاخیر میں کیا حکومت کا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے؟۔

حکومت کی طرف سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل رامچندر راؤ نے کہا کہ کورونا وبا اور دیگر وجوہات کے سبب رپورٹ داخل کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔

ہائی کورٹ نے حکومت پر واضح کردیا ہے کہ اگر ہائی لیول کمیٹی 13ستمبر تک رپورٹ داخل نہیں کرے گی تو پھر اُس کمیٹی کو تحلیل کردیا جائے گا۔

ہائی کورٹ نے انوائرئمنٹ پروٹکشن ٹریننگ اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ای پی ٹی آر آئی) پر زور دیا کہ وہ اس رپورٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کرے۔

عدالت نے کمیٹی کوہدایت دی ہے کہ وہ اپنی رپورٹ کو ویب سائٹ پر پیش کرے اور ریاستی حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اس کمیٹی کی رپورٹ پر ستمبر کے اوا خرتک کوئی فیصلہ کرے۔ عدالت نے اس کیس کی سماعت کو 4/ اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.