گنیش وسرجن، 6 ستمبر کو ہائی کورٹ کا فیصلہ

وینومادھو نے اپنی عرضی میں حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن پر امتناع عائد کرنے کی خواہش کی اور دعویٰ کیا کہ بڑے پیمانے پر جھیل میں مورتیوں کے وسرجن سے حسین ساگر آلودہ ہورہا ہے۔

حیدرآباد: شہر کی مشہور جھیل حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن کے مسئلہ پر تلنگانہ ہائی کورٹ 6 ستمبر کو مناسب احکام جاری کرے گا۔

ایک وکیل وینو مادھو کی جانب سے مفاد عامہ کے تحت دائر کردہ عرضی پر عدالت العالیہ میں سماعت ہوئی۔

وینومادھو نے اپنی عرضی میں حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن پر امتناع عائد کرنے کی خواہش کی اور دعویٰ کیا کہ بڑے پیمانے پر جھیل میں مورتیوں کے وسرجن سے حسین ساگر آلودہ ہورہا ہے اوروسرجن کے موقع پر ہجوم اکھٹا ہونے پر کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا بھی خطرہ ہے۔

گنیش اتسو کمیٹی اور حکومت تلنگانہ سے بھی کہا گیا کہ وہ، مورتیوں کے وسرجن سے آلودگی اور کورونا وبا پھیلنے کے سبب پر اپنا موقف پیش کریں۔ اس ضمن میں کمیٹی اور حکومت کو تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ کووڈ کی موجودہ صورتحال اور آلودگی کے بشمول عوام کے جذبات پر بھی غور کرنا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ آیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ممکنہ حدتک مقامی طور پر مورتیوں کا وسرجن کیا جائے۔

تاہم عدالت العالیہ نے کہا کہ ہم ہر ایک تجویز کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں 6 ستمبر کو مناسب احکام جاری کریں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.