دلت بندھو طرز پر دو فیصد مسلم گھرانوں کی مالی اعانت کی جائے: صدر مجلس

اسد الدین اویسی نے مجلس اتحاد المسلمین کے زیر اہتمام آج منعقد ایک مکالمہ ”تلنگانہ میں مسلمان۔غربت اور دیگر چیالنجس“ سے صدارتی خطاب کیا۔

حیدرآباد: رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے دلتوں کے معاشی استحکام کے لئے ٹی آر ایس حکومت کی شروع کردہ دلت بندھو اسکیم کا جس کے تحت منتخبہ خاندان کو 10 لاکھ روپے نقدی کے ذریعہ مالی اعانت کی جارہی ہے، خیرمقدم کرتے ہوئے مسلمانوں کے لئے بھی انہی خطوط پر مالی اعانت کی اسکیم شروع کرنے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔

مجلس اتحاد المسلمین کے زیر اہتمام آج منعقد ایک مکالمہ ”تلنگانہ میں مسلمان۔غربت اور دیگر چیالنجس“ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے تعلیمی، معاشی و سماجی مؤقف پر تازہ اعداد و شمار کی روشنی میں چیف منسٹر سے مطالبہ کیاکہ دلت بندھو اسکیم کی طرز پر ہی کم از کم دو فیصد مسلم گھرانوں کا جو 18,000 ہوتے ہیں 10 لاکھ روپے کی مالی اعانت فراہم کرنے کی اسکیم کا اعلان کرے جس کے لئے 1,800 کروڑ روپے کے مجموعی مصارف عائد ہوں گے۔

انہوں نے تازہ اعداد و شمار کی روشنی میں بتایاکہ تلنگانہ ریاست میں 48 لاکھ مسلم آبادی ہے اور اوسطاً ایک خاندان میں 5.5 افراد رہتے ہیں۔ اس طرح تلنگانہ میں 8.80 لاکھ مسلم گھرانے بستے ہیں جن میں ایک فیصد مسلم گھرانے خط غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے لئے 1,800 کرو ڑ روپے کی رقم کوئی بڑی رقم نہیں ہے چونکہ ریاست تلنگانہ کا سالانہ بجٹ دو لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے اور اقلیتوں کے لئے 1,600 کروڑ روپے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 1,800 کروڑ روپے تلنگانہ حکومت کے لئے زیادہ بوجھ نہیں ہوگی۔ اگر حکومت اتنی رقم کی اجرائی میں دقت محسوس کرتی ہے تو کم ازکم گزشتہ 7 برسوں میں اقلیتوں کے لئے مختص بجٹ کی غیر مستعملہ رقومات ہی اس مد کے لئے منتقل کردے جو تقریباً اتنی ہی مقدار کی ہے۔

اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو حکو مت کم ازکم ایک فیصد مسلم گھرانوں یعنی 9 ہزار لوگوں کا انتخاب کرے جس کے لئے صرف 9,000 کروڑ روپے درکار ہوں گے یا پھر اس اسکیم کے تحت جاری کی جانے والی رقم کو دو اقساط میں دو برسوں میں ادا کرے۔

اویسی نے کہا کہ اگرچہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی شرح خواندگی کا تناسب 77فیصد ہے جو ریاست کے اوسط 67فیصد سے زائد ہے مگر جوں جوں بچوں کی عمر اور تعلیم کا درجہ بڑھتا جائے گا مسلم طلبہ کی شرکت کی شرح گھٹتی جائے گی اور دیگر اقوام کے مقابل یہ فرق بہت زیادہ ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.