رینٹ اے گرل کے رجحان میں اضافہ

ہفتہ اور اتوار کو رات دیرگئے تک یہاں آئی ٹی پروفیشنلس وقت گذارتے ہیں۔ہفتہ کے آخری ایام میں ڈی جے ساؤنڈ پر رقص وسرورعام ہوتی ہے۔ مختلف رنگوں کے ڈرنکس کے جام چھلکائے جاتے ہیں۔

حیدرآباد: ہفتہ کے آخری ایام میں شہراور نواحی علاقوں کے پبس میں کافی چہل پہل دکھائی دیتی ہے۔ آئی ٹی پیشہ سے وابستہ نوجوان ملازمین ویک اینڈ پران پبس کارخ کرتے ہیں اور دودنوں تک موج مستی کرتے ہیں۔

ہفتہ اور اتوار کو رات دیرگئے تک یہاں آئی ٹی پروفیشنلس وقت گذارتے ہیں۔ہفتہ کے آخری ایام میں ڈی جے ساؤنڈ پر رقص وسرورعام ہوتی ہے۔ مختلف رنگوں کے ڈرنکس کے جام چھلکائے جاتے ہیں۔

چندپبس مالکان‘ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب بھی ہورہے ہیں۔ یہاں کووڈ 19 کے رہنمایانہ خطوط کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ان پبس میں رینٹ اے گرل کانظم رہتا ہے۔

گاہکوں کیلئے سیرو تفریح کاسامان فراہم کرنے پر لڑکی کو ایک گھنٹہ کیلئے 2تا3ہزار روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ اس ویک اینڈ پر ان پبس پر رات دیرگئے تک ہنگامہ بپارہتاہے۔

بتایا جاتاہے کہ مادھاپور‘سائبرآباداور دیگر علاقوں کے پبس میں نابالغ لڑکے اورلڑکیوں کوبھی داخلہ کی اجازت دی جارہی ہے۔

گچی باؤلی کے ایک باراینڈ ریسٹورنٹ میں ایک کمسن لڑکی کے رقص پر اعتراض کیاگیا۔ مطلع کرنے پر پولیس نے کاروائی بھی کی تھی۔

سماج کے ہائی فائی سوسائٹیوں اورپبس میں جہاں امیر زادے سیروتفریح ودل جمعی کیلئے آتے ہیں وہاں رینٹ اے گرل کارجحان تیزی کیساتھ بڑھتا جارہے جوسماج اور ہماری تہذیب کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ٹاسک فورس کے عہدیدار‘پبس پرکڑی نظررکھے ہوئے ہیں۔

پبس کے اطراف واکناف کے علاقوں کے عوام کی شکایت پرپولیس نے چند پبس کوبند کردیا ہے۔ چیف منسٹرکیمپ آفس پرگتی بھون کے قریب کنٹری کلب کے احاطہ میں پولیس نے حالیہ دنوں تین پبس کومہربند کردیاتھا کیونکہ ان پبس کے مالکان قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تھے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.