زرعی پیداوارکوفروغ دینے اختراعات کی حوصلہ افزائی ناگزیر

پروفیسر جئے شنکرتلنگانہ اسٹیٹ اگریکلچرل یونیورسٹی راجندرنگرمیں اگری ہب (اگریکلچرل انوویشن ہیں) کے قیام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ ہندوستان کے لئے فوڈسیکوریٹی بڑا چیالنج نہیں ہے تاہم کووڈ19وباء میں نیوٹریشنل (تغذیہ) سیکوریٹی کا چیالنج ضرور ہے اس وباء کے دوران نیوٹریشن فوڈ کی کھپت میں اضافہ ہواہے۔

حیدرآباد: ریاستی وزیربلدی نظم ونسق وشہری ترقیات کے ٹی آر نے زرعی پیداوار کوفروغ دینے اور اسے منفعت بخش بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر جئے شنکرتلنگانہ اسٹیٹ اگریکلچرل یونیورسٹی راجندرنگرمیں اگری ہب (اگریکلچرل انوویشن ہیں) کے قیام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ ہندوستان کے لئے فوڈسیکوریٹی بڑا چیالنج نہیں ہے تاہم کووڈ19وباء میں نیوٹریشنل (تغذیہ) سیکوریٹی کا چیالنج ضرور ہے اس وباء کے دوران نیوٹریشن فوڈ کی کھپت میں اضافہ ہواہے۔

انہوں نے یونیورسٹی حکام پرزوردیا کہ اگری ہب کے درواز ے تمام افراد بالخصوص کسانوں کے لئے کھلے رکھیں۔انہوں نے ریاست کے زرعی شعبہ میں مزید ریسرچ کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے کہاکہ کسان ہی سب سے بڑے انوویٹرس ہیں اور اختراعیت پرکسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ چند برسوں میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہواہے۔ ریاستی حکومت زرعی شعبہ کوجس پرملک کی 60 فیصد آبادی منحصر ہے‘بڑے پیمانے پر فروغ دینے کاارادہ رکھتی ہے۔اس خصوص میں حکومت تلنگانہ زرعی مقاصد کے لئے کسانوں کو بلاخلل برقی مفت سربراہ کررہی ہے۔

سود سے پاک فصلی قرض دیا جارہا ہے۔سیڈس (تخم) اورکھادپر سبسیڈی دی جارہی ہے۔ رعیتوبندھواسکیم کے تحت ان پٹ سبسیڈی کے طورپرسالانہ فی ایکر10 ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے۔کے ٹی آر نے کہاکہ دھان کی پیداوار اور خریدی میں تلنگانہ ملک کی دیگر ریاستوں میں سرفہرست ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.