سپریم کورٹ سے عرضی واپس لینے حکومت تلنگانہ کو اجازت

کرشنا ٹریبونل کی تشکیل کیلئے حکومت تلنگانہ نے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں عرضی داخل کی تھی۔

حیدرآباد: سپریم کورٹ نے ملک کی تینوں ریاستوں کرناٹک، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان دریا کرشنا کے پانی کی تقسیم کیلئے کرشنا ٹریبونل کی تشکیل کے مطالبہ پر داخل کردہ عرضی کوواپس لینے کی حکومت تلنگانہ کو اجازت دے دی ہے۔

کرشنا ٹریبونل کی تشکیل کیلئے حکومت تلنگانہ نے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں عرضی داخل کی تھی۔ مرکزی حکومت نے ٹریبونل کی تشکیل سے متعلق مسئلہ کا جائزہ لینے کے تیقن کے بعد تلنگانہ نے سپریم کورٹ سے عرضی واپس لینے کی اجازت طلب کی تھی۔

سپریم کورٹ نے عرضی واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ عدالت، ٹریبونل کی تشکیل کیلئے کوئی احکام جاری نہیں کررہی ہے۔ دوسری جانب آندھرا پردیش اور کرناٹک نے عرضی واپس لینے سے متعلق حکومت تلنگانہ کے فیصلہ پر اعتراض کیا۔

اے پی اور کرناٹک کی حکومتوں کے اعتراض پر عدالت عظمیٰ نے ان دونوں ریاستوں سے اعتراض کی درخواست داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔یو این آئی کے مطابق سپریم کورٹ نے آج حکومت تلنگانہ کو عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔

تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک کے مابین دریا کرشنا کے پانی کی تقسیم کیلئے کرشنا ٹریبونل کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ نے یہ عرضی داخل کی تھی۔ کرشنا ٹریبونل کے قیام کے مسئلہ ہے پر غور کرنے سے متعلق مرکز کے تیقن کے بعد تلنگانہ نے عرضی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریں اثنا اے پی اور کرناٹک نے عرضی سے دستبرداری کے مسئلہ پر سخت اعتراض کیا اور ان دونوں ریاستوں کی حکومتوں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ حکومت تلنگانہ کے اقدام کے خلاف اعتراض کی اپیل داخل کریں گے جس پر عدالت عظمیٰ نے ان دونوں ریاستوں کو اپیل اعتراض داخل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.