مشروب پینے کے بعدانٹرکاطالب علم دوران علاج فوت

ہاسپٹل میں دوران علاج پولیس کودیئے گئے اپنے بیان کے مطابق کہ لڑکی کی ماں نے اسے زہرملاہوا مشروپ پیش کیاجس کوایاز نے نوش کرلیا اور اپنے مکان لوٹ آیا۔دوسرے دن اسے الٹیاں شروع ہوگئیں جسے فوری ہاسپٹل لے جایا گیا۔

حیدرآباد: انٹرمیڈیٹ کاایک طالب علم‘ بتایا جاتا ہے کہ گرل فرینڈکی والدہ کی جانب سے مبینہ طورپرپیش کردہ زہرآمیزش سافٹ ڈرنکس پینے کے بعد بیمارہوگیاتھا‘آج ہاسپٹل میں دوران علاج فوت ہوگیا۔

بتایا جاتاہے کہ 19 سالہ شیخ ایاز کے ایک 16سالہ لڑکی جومعین آباد کی متوطن بتائی گئی ہے‘ کے ساتھ چند برسوں سے تعلقات تھے۔11نومبرکوایاز اپنی گرل فرینڈ کے مکان گیا۔

ہاسپٹل میں دوران علاج پولیس کودیئے گئے اپنے بیان کے مطابق کہ لڑکی کی ماں نے اسے زہرملاہوا مشروپ پیش کیاجس کوایاز نے نوش کرلیا اور اپنے مکان لوٹ آیا۔دوسرے دن اسے الٹیاں شروع ہوگئیں جسے فوری ہاسپٹل لے جایا گیا۔

گذشتہ 10 دنوں کے دوران ایاز کو اس کے افراد خاندان مختلف ہاسپٹل لے گئے تاکہ اس کابہترطورپر علاج ہوسکے تاہم پیر کے روز وہ ایک ہاسپٹل میں دوران علاج فوت ہوگیا۔

معین آباد کے انسپکٹر بی راجو نے بتایا کہ اقدام قتل کاکیس درج کیاگیا تھا تاہم ایاز کی موت کے بعداس کیس میں دفعہ 302 (قتل) کابھی اضافہ کیاگیا۔ انکوائری کے دوران پتہ چلاکہ دونوں (لڑکا اور لڑکی)نے آپس میں چند تصاویر کا تبادلہ کیا تھا۔

یہ بات معلوم ہونے پر لڑکی کی والدہ نے ایاز کی کونسلنگ کی۔اس کے باوجودوہ لڑکی کے ساتھ مسلسل ربط میں تھا۔ اس ماہ کے اوائل میں لڑکی کی شکایت پر پولیس نے ایاز کے خلاف پوکسوایکٹ کے تحت کیس درج کیاتھا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکی کے گھرجانے کے بعد سے نوجوان بیمارپڑگیا۔

نعش کاپوسٹ مارٹم کیاگیا ہے پولیس کورپورٹ کاانتظار ہے تب ہی موت کا سبب معلوم ہوپائے گا۔پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.