مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کی خدمات برخاست کرنے کی تیاریاں

یاد رہے کہ یہ دونوں مساجد کا انتظام آصف جاہی دور میں سرکاری سطح پر ہی ہوا کرتا تھا، سقوط حیدرآباد کے بعد نظام ہفتم میر عثمان علی خان کی خواہش پر جو راج پرمکھ بھی تھے، ان دونوں مساجد کے انتظامات حکومت کے سپرد ہی رکھے گئے اور ان مساجد کو محکمہ ہندو اوقاف کے تحت کردیا گیا تھا۔

جھلکیاں
  • چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کے تئیں فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے اور انہوں نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو ا ولین ترجیح دی ہے۔
  • مجلس اتحاد المسلمین کی نمائندگی پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان اسمبلی میں تیقن دیا تھا کہ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنائیں گے۔
  • مکہ مسجد میں 24 اور شاہی مسجد باغ عامہ میں 6 ملازمین کی جائیدادیں منظورہ ہیں جن میں دو جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔

حیدرآباد: ٹی آر ایس حکومت، ریاست میں بی جے پی اور کانگریس کے استحکام کے پیش نظر رائے دہندوں کو راغب کرنے مختلف برادریوں کے لئے نت نئے ترغیبی پروگراموں کو روبہ عمل لارہی ہے مگرایسا لگتا ہے کہ دفتر شاہی کے باعث اقلیتیں خاص کر مسلمان یکسر نظرانداز کردئیے گئے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کے تئیں فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے اور انہوں نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو ا ولین ترجیح دی ہے۔مسلمانوں کی بدقسمتی پر ہی محمول کیا جائے گا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں کام کرنے والے اعلیٰ عہدیداراور نچلی سطح کے عہدیدار نہیں چاہتے تھے کہ اقلیتوں کے لئے حکومت کچھ کرے۔

اقلیتوں کی ترقی و بہبود سے متعلق اسکیمات کے لئے منظورہ فنڈس کا بروقت استعمال کرنے سے بھی گریز کررہے ہیں جس کی وجہ سے اقلیتوں میں ٹی آر ایس حکومت کی شبیہ بہت ہی بگڑ کر رہ گئی ہے۔

 مسلمانوں کی ناراضگی میں مزید اضافہ کرنے محکمہ اقلیتی بہبود تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین بشمول آئمہ و خطباء کی عارضی خدمات کو برخاست کرتے ہوئے انہیں دوبارہ آوٹ سورسنگ کی اساس پر تقرر کرنے کی تمام تر تیاریاں کرلی گئی ہیں۔

حالانکہ مجلس اتحاد المسلمین کی نمائندگی پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان اسمبلی میں تیقن دیا تھا کہ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنائیں گے۔

ایک سے زائد مرتبہ صدر مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی چیف منسٹر کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے دونوں مساجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے اور ان کے مشاہرہ میں اضافہ کرنے کی نمائندگی کرچکے ہیں۔مکہ مسجد میں 24 اور شاہی مسجد باغ عامہ میں 6 ملازمین کی جائیدادیں منظور ہ ہیں جن میں دو جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔
  • یاد رہے کہ یہ دونوں مساجد کا انتظام آصف جاہی دور میں سرکاری سطح پر ہی ہوا کرتا تھا، سقوط حیدرآباد کے بعد نظام ہفتم میر عثمان علی خان کی خواہش پر جو راج پرمکھ بھی تھے، ان دونوں مساجد کے انتظامات حکومت کے سپرد ہی رکھے گئے اور ان مساجد کو محکمہ ہندو اوقاف کے تحت کردیا گیا تھا۔
  • بعدازاں 1996 ء میں ان دو مساجد کے انتظامات محکمہ مال ہندو انڈومنٹ سے محکمہ اقلیتی بہبود کو منتقل کئے گئے تھے۔اس وقت دونوں مساجد میں آئمہ و خطبا ء سمیت 30 ملازمین تھے اور اس وقت برسر خدمت ملازمین کی خدمات بھی محکمہ اقلیتی بہبود کے سپرد کردی گئی۔

محکمہ اقلیتی بہبود کو ان مساجد کے انتظامات کی ذمہ داریاں تفویض ہوجانے کے بعد سے ہی یہاں کام کرنے والے ملازمین مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ ان کی خدمات کو معقول اور مستقل کیا جائے مگر محکمہ اقلیتی بہبود ٹس سے مس نہیں ہوا جس پر اس وقت کام کرنے والے ملازمین کی انجمن نے 2003 ء میں ایک رٹ درخواست دائر کرتے ہوئے ان کی ملازمت کو باقاعدہ بنانے کی استدعا کی تھی۔

محکمہ اقلیتی بہبود کے مبہم جواب کے باوجود عدالت العالیہ نے رٹ درخواست کی یکسوئی کرتے ہوئے 2014 ء میں صاد راپنے فیصلہ میں مدعی علیہ سرکاری محکمہ جات کو ہدایت دی تھی کہ دیگر محکمہ جات سے مشاورت کرتے ہوئے دونوں مساجد کے ملازمین کے تعلق سے اندرون دو ماہ مناسب فیصلہ کرے اورحکومت کی جانب سے قواعد وضع کرنے تک حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ قیمتوں میں اضافہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کا مشاہرہ مقرر کرے۔

 عدالتی احکام کے مطابق ان ملازمین کے تئیں کوئی مناسب فیصلہ کرتے ہوئے ان کے مشاہرہ بڑھانے کی بجائے محکمہ اقلیتی بہبود نے ہمیشہ سے ان کے ساتھ معاندانہ سلوک رکھا۔ ان کے حق میں اچھے اقدامات کرنے کی بجائے اب ا ن کی خدمات کو حقیر سمجھتے ہوئے مشاہرہ ایصال کرنے میں دشواریوں کا بہانہ بناتے ہوئے ان کی دیرینہ خدمات کو برخاست کرنے اور آوٹ سورسسنگ کی اساس پر انہیں از سر نو تقررکرنے کے درپے ہے جبکہ کئی ملازمین یہاں 20 برس سے زائد عرصہ سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اس خصوص میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار بہت ہی سرگرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ خاموشی سے فائیل پر منظوری حاصل کرلی جائے تاکہ ایوان اسمبلی میں یہ مسئلہ پیش نہ ہونے پائے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور ڈسٹرکٹ مائنارٹیز ویلفیر آفس اور مکہ مسجد کے عہدیداروں کو درپردہ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اس کی بھنک کسی کو نہ ہونے پائے بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

 یاد رہے کہ محکمہ ان دو مساجد میں امامت و خطابت کے منصب پر فائز ہمارے علمائے کرام کا مشاہرہ انہی مساجد میں سیکوریٹی کے فرائض انجام دینے والے ہوم گارڈس سے بھی کم ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.