نیٹ کے خاتمہ کیلئے کے سی آر تائید کریں: اسٹالن

اسٹالن، قومی اہلیتی انٹرنس ٹسٹ (نیٹ) کو ختم کرنے مرکز سے اپنے مطالبہ کو منوانے تمام غیر بی جے پی چیف منسٹرس تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔

حیدرآباد: ٹاملناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اسٹالن نے میڈیکل کورسس میں داخلہ کیلئے قومی امتحان(نیٹ) کو ختم کرانے تلنگانہ میں اپنے ہم منصب کے چندر شیکھر راؤ سے مدد مانگی ہے۔

اسٹالن، قومی اہلیتی انٹرنس ٹسٹ (نیٹ) کو ختم کرنے مرکز سے اپنے مطالبہ کو منوانے تمام غیر بی جے پی چیف منسٹرس تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔

درویڈا منتیرا کازگم (ڈی ایم کے) کے 2ارکان پارلیمنٹ نے کل تلنگانہ کے وزیر اور ٹی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی اور اُنہیں اسٹالن کی جانب سے چندر شیکھر راؤ کے نام تحریر کردہ مکتوب حوالے کیا۔

ارکان پارلیمنٹ ٹی کے ایس ایلانگون اور کلاندھی ویرا سوامی نے راما راؤ سے ملاقات کی جو چیف منسٹر کے لڑکے ہیں اور اُن سے خواہش کی کہ وہ اس مسئلہ پر ڈی ایم کے پارٹی کے موقف کی تائید کریں۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ لوگ نیٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس لیڈر نے اس مسئلہ پر تائید کرنے اُن کی درخواست کا مثبت جواب دیا۔ایلانگون نے بتایا کہ نیٹ امتحان ریاستی طلبہ کو متاثر کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیکل کالجس کیلئے انفرااسٹرکچر تعمیر کیاہے اور پروفیسرس کو تنخواہیں ادا کرتے ہیں لیکن نیٹ کی وجہ سے ہمارے طلبہ اُنہی کالجوں میں داخلہ سے محروم رہتے ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے کہ یہ چیز وفاقی ڈھانچہ کے خلاف ہے، رکن پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ تعلیم کو مشترکہ فہرست کے بجائے دوبارہ ریاستی فہرست میں لایا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس سلسلہ میں ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کے چیف منسٹرس سے بات چیت کررہے ہیں۔مرکز کی جانب سے ریاستوں کے حقوق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جسے روکے جانے کی ضرورت ہے اور ہمیں مضبوطی کے ساتھ اپنی آواز اٹھانی چاہئے۔ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ رنجیت ریڈی نے کہا کہ ڈی ایم اے ارکان پارلیمنٹ نے راما راؤ کے ساتھ اس مسئلہ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

اسٹالن نے گذشتہ ماہ ٹاملناڈوکے3نیٹ امیدواروں کے خودکشی کرلینے کے بعد اس داخلہ امتحان کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔وہ اپنے مطالبہ کیلئے تائید حاصل کرنے تمام غیر بی جے پی چیف منسٹر س سے ربط پیدا کررہے ہیں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.