کیا یہی ٹی آر ایس کا سماجی انصاف ہے؟

اگرچہ کہ سماجی انصاف کے تقاضوں کوپورا کرتے ہوئے امیدواروں کا انتخاب کیاگیا ہے مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ سماجی انصاف کے تقاضوں میں مسلمانوں کوکیونکر شامل نہیں کیاجاتا ہے؟۔

حیدرآباد: حکمران جماعت ٹی آرایس کی جانب سے کونسل کے 12مجالس مقامی حلقوں کے لئے پارٹی امیدواروں کے ناموں کااعلان کردیاگیا۔حسب توقع اعلان کردہ فہرست میں ایک بھی مسلمان کانام شامل نہیں ہے۔

اگرچہ کہ سماجی انصاف کے تقاضوں کوپورا کرتے ہوئے امیدواروں کا انتخاب کیاگیا ہے مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ سماجی انصاف کے تقاضوں میں مسلمانوں کوکیونکر شامل نہیں کیاجاتا ہے؟۔

کیا مسلمان تلنگانہ سماج کاحصہ نہیں ہیں؟کیا ٹی آرایس بھی مسلمانوں کو صرف دل خوش اعلانات سے بہلاتے ہوئے انہیں ووٹ بینک کی طرح استعمال کررہی ہے؟

کیا پارٹی قیادت کی نظرمیں مسلمان رکن کونسل بنائے جانے کے لئے اہل نہیں ہیں؟ پھر کیوں مسلمانوں کوسیاسی شراکت داری فراہم کرنے سے انکار کیاجارہاہے؟

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ مجالس مقامی اداروں میں ٹی آرایس کومکمل اکثریت حاصل ہے اور کم ازکم ایک مسلم قائد کوبھی امیدوار بنایا جاتا تواس کا کامیاب ہونایقینی تھا۔

ٹی آرایس کامسلمانوں کے ساتھ مسلسل نظرانداز کرنے کارویہ مستقبل میں نقصاندہ ثابت ہوسکتاہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.