کے ٹی آر نے تلنگانہ کی دوسری آئی ٹی پالیسی جاری کی

تشکیل تلنگانہ اور 2014 میں برسرا قتدار آنے کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے 2016 میں آئی ٹی کی پہلی پالیسی جاری کی تھی۔

حیدرآباد: ریاستی وزیر بلدی نظم ونسق وشہری ترقیات اور آئی ٹی وصنعتیں کے تارک راما راؤ نے آج یہاں انفارمیشن وٹکنالوجی (آئی ٹی) کی دوسری پالیسی کو متعارف کرایا۔

تشکیل تلنگانہ اور 2014 میں برسرا قتدار آنے کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے 2016 میں آئی ٹی کی پہلی پالیسی جاری کی تھی۔

نئی آئی ٹی پالیسی میں شہریوں (عوام) کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے، اختراعات، انٹر پرینرشپ اور انوویشن ایکوسسٹم کو عالمی سطح پر متعارف کرانے پر بھر پور توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت حکومت، کم از کم گھر کے ایک فرد اور سیلف ہیلپ گروپ کو یقینی طور پر ڈیجیٹل طور پر خواندہ بنائے گی۔

ڈیجیٹل ایکو سسٹم تک رسائی اور اس سے فائدہ اٹھانے کا مواقع فراہم کرے گی۔ پنچایت سطح پر12 ہزار ڈیجیٹل تلنگانہ سنٹرس قائم کئے جائیں گے۔

تاکہ مضافاتی علاقوں میں شہریوں کو ڈیجیٹل خدمات فراہم کئے جاسکیں۔تمام ٹکنالوجی گریجویٹس کو آرٹیفیشیل انٹلیجنس کی بنیادی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں نئی ٹکنالوجیز میں روزگار کے مواقع کیلئے تیار کیا جاسکے۔

ریاستی حکومت1300 کروڑ روپے کے مصارف سے اسٹارٹ اپ شروع کرے گی۔ سرکاری انوسٹمنٹ کمیٹی، 800اسٹارٹ اپس کی مدد کرتے ہوئے اسٹارٹ اپس میں ملک بھر میں تلنگانہ کو سرفہرست مقام دلانا چاہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک وہیکلس، بیاٹری اسٹوریج، سسٹمس، کنزیومر الیکٹرانکس، میڈیکل آلات اور آٹو موبائیل شعبہ پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دی جائے گی اور75000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جائے گا اور شعبہ الیکٹرانک میں 3لاکھ جابس فراہم ہوں گے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.