یوم آزادی تلنگانہ، مفاد عامہ کی عرضی ہائی کورٹ میں خارج

سابق ریاست حیدرآباد کو آپریشن پولو کے ذریعہ 17ستمبر 1948 میں ہند یونین میں ضم کیا گیا تھا۔ بی جے پی، کئی برسوں سے یہ مطالبہ کرتی آرہی ہے کہ اس سلسلہ میں سرکاری تقریب منائی جائے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کے کارگذار چیف جسٹس ایم ایس رامچندرراو کی زیرقیادت بنچ نے یوم آزادی تلنگانہ کی تقریب سرکاری طورپر منانے کی حکومت کو ہدایت دینے کی خواہش کرتے ہوئے داخل کردہ عرضی کو خارج کردیا۔

سابق ریاست حیدرآباد کو آپریشن پولو کے ذریعہ 17ستمبر 1948 میں ہند یونین میں ضم کیا گیا تھا۔ بی جے پی، کئی برسوں سے یہ مطالبہ کرتی آرہی ہے کہ اس سلسلہ میں سرکاری تقریب منائی جائے۔

سُنکری گوڑنامی شخص کی جانب سے اس خصوص میں داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضی کو سماعت سے قبول کرنے سے عدالت نے انکار کردیا۔

عرضی گذار نے عدالت سے خواہش کی تھی کہ وہ یوم آزادی حیدرآباد کی تقریب سرکاری طورپر منانے کے لئے ریاستی حکومت کو سرکاری احکام جاری کرنے کی ہدایت دے۔

عرضی گذار کے وکیل وائی بالاجی نے عدالت سے کہا کہ پولیس،ایسے تمام افراد کو گرفتار کررہی ہے جو 17ستمبرکو یوم آزادی تلنگانہ منانے کی کوشش کررہے ہیں۔

کارگذار چیف جسٹس ایم ایس رامچندرراو نے عرضی گذار کے وکیل کے دلائل کی سماعت کے بعد کہا کہ وہ 17ستمبر کو یوم آزادی تلنگانہ منانے کی ریاستی حکومت کو ہدایت نہیں دے سکتے۔

اگرپولیس احتجاج کرنے والوں کے خلاف معاملات درج کررہی ہے تو یہ افراد عدالت کی واحد بنچ سے مناسب راحت کیلئے ء رجوع ہوسکتے ہیں۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.