حسین ساگر میں مورتیوں کا وسرجن مسئلہ

ہائیکورٹ نے ایک ہفتہ قبل اپنے فیصلہ میں پی او پی سے بنی گنیش مورتیوں کو حسین ساگر میں وسرجن کرنے اور جلوس کو ٹینک بنڈ پر آنے تک روک لگادی تھی۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائیکورٹ کی ڈیویژن بنچ نے جو کارگذار چیف جسٹس رامچندرراؤ اور جسٹس ونود کمار پر مشتمل تھی‘ حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن کے مسئلہ پر حکومت کی نظرثانی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں ترمیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ہائیکورٹ نے ایک ہفتہ قبل اپنے فیصلہ میں پی او پی سے بنی گنیش مورتیوں کو حسین ساگر میں وسرجن کرنے اور جلوس کو ٹینک بنڈ پر آنے تک روک لگادی تھی۔

ہائیکورٹ نے حکومت کو عدالتی سابق میں دئیے گئے احکام کی تعمیل کا حکم دیا اور کہا کہ حکومت کو اگر عدالتی احکام پر اعتراض ہے تو وہ ان احکام کوچیالنج کرسکتی ہے۔

جی ایچ ایم سی کے کمشنر لوکیش کمار کی جانب سے داخل کردہ نظرثانی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ پر نظرثانی سے انکار کردیا اور کہا کہ حکومت کو عدالت کے احکام کی تعمیل کرنا ہوگا۔

ریاستی حکومت نے عدالت سے خواہش کی تھی کہ رواں سال چھوٹ دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ گذشتہ سال بھی ہائیکورٹ نے حسین ساگر میں مورتیوں کا وسرجن نہ کرنے کے احکام جاری کئے تھے افسوس کی بات ہے کہ اس ایک سال میں حکومت نے احکام پر عمل آوری نہیں کی ہے حکومت کا رویہ اطمینان بخش نہیں ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ پی او پی سے بنی مورتیوں کے وسرجن سے حسین ساگر کا پانی آلودہ ہورہا ہے جس پر عدالت خاموش نہیں رہ سکتی۔ ہائیکورٹ نے یاد دلایا کہ حکومت نے ماضی میں تین کاؤنٹرس داخل کئے مگر کبھی بھی حکومت نے عدالت کو یہ نہیں بتایا کہ ہائیکورٹ کے احکام پر عمل آوری سے مشکلات درپیش ہوں گے۔

حکومت تمام ان دشواریوں سے بخوبی واقف ہے اس کے باوجود خاموش ہے۔ قبل ازیں حکومت تلنگانہ نے آج ریاستی ہائیکورٹ سے حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن اور جلوس کو ٹینک بنڈ تک لیجانے کی اجازت دینے کی خواہش کی ہے۔

کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) لوکیش کمار نے آج درخواست داخل کرتے ہوئے عدالت العالیہ سے اپنے سابق فیصلہ پر نظرثانی کرتے ہوئے پی او پی سے بنی گنیش مورتیوں کو حسین ساگر میں وسرجن کی اجازت دینے کی خواہش کی ہے۔

انہوں نے عدالت سے شہر کی مشہور جھیل حسین ساگر میں مصنوعی رنگوں سے بنائی گئی گنیش مورتیوں کے وسرجن پر عائد امتناع اور وسرجن کیلئے عائد تحدیدات برخواست کرنے کی خواہش کی ہے۔ کمشنر نے اپنی درخواست میں عدالت سے ربر ڈیم تعمیر کرنے سے متعلق اپنے احکام پر نظرثانی کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

لوکیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن کی اجازت نہ ملنے سے وسرجن عمل کی تکمیل کیلئے 6دن لگ جائیں گے اور جھیل میں ربر ڈیم کی تعمیر کیلئے بھی وقت درکار ہوگا۔ ہزارہا مورتیوں کے وسرجن کیلئے مناسب وموزوں ذخائر آب کی کمی ہے۔

بڑی مورتیوں کو ان ذخائر آب میں نمرجن نہیں کیا جاسکتا۔ جی ایچ ایم سی کمشنر نے اپنی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ ٹینک بنڈ پر پہلے ہی کئی کرنیوں کو تعینات کیا جاچکا ہے اور دیگر انتظامات بھی مکمل کرلئے گئے ہیں۔

چند ماہ قبل سے وسرجن کے انتظامات کئے جارہے ہیں اور مختصر وقت میں وسرجن کے عمل کو تبدیل کرنابہت مشکل رہے گا۔ درخواست میں ہائیکورٹ کو یقین دلایا گیا ہے کہ مورتیوں کے نمرجن کے 24گھنٹوں کے اندر ملبہ کو صاف کردیا جائے گا۔

لوکیش کمار نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ مورتیوں کے وسرجن پر تحدیدات پر گنیش اتسو کمیٹی نے احتجاج کی بھی دھمکی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.