حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کے وسرجن پر پابندی

عدالت نے حکام پر زوردیا کہ وہ چھوٹی اور ماحول دوست گنیش کی مورتیوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ عدالت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام اقدامات کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ گنیش کے اسٹالس کے قریب عوام کے ہجوم کو روکا جائے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائیکورٹ نے شہر حیدرآبادکے حسین ساگر میں گنیش چتورتھی کے موقع پر گنیش مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کردی ہے تاہم عدالت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ پلاسٹر آف پیرس سے بنی مورتیوں کا حسین ساگر میں وسرجن نہ کیاجائے۔

عدالت نے تلنگانہ حکومت کے ساتھ ساتھ گریٹرحیدرآبادمیونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی)کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ حسین ساگر میں مورتیوں کے وسرجن کی اجازت نہ دیں اور پلاسٹر آف پیرس سے بنی مورتیوں کے ربرڈیمس میں وسرجن کے خصوصی انتظامات کئے جائیں۔

عدالت نے حکام پر زوردیا کہ وہ چھوٹی اور ماحول دوست گنیش کی مورتیوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ عدالت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام اقدامات کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ گنیش کے اسٹالس کے قریب عوام کے ہجوم کو روکا جائے۔ وینومادھونامی وکیل نے حسین ساگر جھیل میں گنیش اوردُرگا کی مورتیوں کے وسرجن کے خلاف عدالت میں عرضی داخل کی تھی جس کی تفصیلی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ کو محفوظ رکھا تھا اور آج عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔

 عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ دوردراز کے علاقوں سے شردھالوووں کو حسین ساگر آنے سے روکا جائے۔ ساتھ ہی جی ایچ ایم سی کے عہدیدار وسرجن کے دن مفت ماسکس تقسیم کرے،ماحولیات کو آلودہ بنانے والی مورتیوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے اور دس بجے شب کے بعد کسی بھی قسم کی صوتی آلودگی نہ ہونے پائے۔ ریاستی حکومت سے خواہش کی گئی کہ وہ میڈیا کے ذریعہ اس کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کرے۔

(یواین آئی)

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.