اندرا پارک پر مہا دھرنا،بھارتیہ کسان مورچہ کا احتجاج جاری رہے گا: راکیش ٹکیت

کسانوں کے ممتاز قائد راکیش ٹکیت نے مزید کہا ک ہ کسانوں کے مسائل حل کرنے کیلئے مستقبل قریب میں منعقد شدنی پانچ ریاستوں سے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور وزیر اعظم کو سبق سکھانے اور بی جے پی کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔

حیدرآباد: بھارتیہ کسان مورچہ کے قائد راکیش ٹکیت نے آج دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت، ہمارے تمام مطالبات کو قبول نہیں کرتی تب تک ملک بھر میں کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا۔ کسانوں کے حق ووٹ کے تحفظ کیلئے ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ کسانوں کو مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مسائل میں کمی نہیں آرہی ہے۔

کاشتکاروں کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے ایک میکا نزم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں میں حکومت کے تئیں اعتماد میں اضافہ ہوسکے۔ انہوں نے ایک آئینی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جس میں حکومتی عہدیدار، بھارتیہ کسان مورچہ اور کسانوں کی دیگر تنظیموں اور این جی اوز کے نمائندوں کو جگہ دی جانی چاہئے تاکہ وقتاً فوقتاً کسانوں کے مسائل پر غور کرتے ہوئے ان کی یکسوئی کیلئے پل کی جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے کسانوں کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔

 شہر حیدرآباد میں اندرا پارک کے مقام پر منعقدہ مہا دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے یہ بات کہی۔ سی پی آئی کی محاذی تنظیم رعیتو سنگم نے اس دھرنا کا اہتمام کیا تھا۔ ٹکیت نے تلنگانہ کے بشمول ملک بھر کے کسانوں کی تعریف کی جنہوں نے کاشتکاروں کے طویل احتجاج سے اظہار یگانگت کیا اور ان کی تائید کی۔ کسانوں کے مسلسل احتجاج کے سبب وزیر اعظم نریندر مودی کو متنازعہ تین زرعی قوانین کی تنسیخ کا اعلان کرناپڑا۔

 اس سلسلہ میں مرکزی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے۔ اگرچیکہ وزیر اعظم مودی نے متنازعہ قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے مگر اس کے باوجود کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا۔ ہم اپنے احتجاج کو واپس نہیں لیں گے۔ کئی مسائل ایسے ہیں جن پر بحث کی ضرورت ہے اور ہمارے چند مطالبات کی یکسوئی تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان مطالبات میں 23 پراڈکٹس پر ایم ایس پی کے تعین کیلئے قانون بنانا، نیو الیکٹریسٹی بل کوواپس لینے اور متوفی کسانوں کے ورثا کو معقول معاوضہ دینا، شامل ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے احتجاج کے دوران متوفی کسانوں کے ورثا کو فی کس3لاکھ روپے ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے راکیش ٹکیت نے مزید کہا کہ احتجاجی کسانوں کے خلاف دائر مقدمات کو واپس لینے اور دستوری کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کسانوں کے ممتاز قائد راکیش ٹکیت نے مزید کہا ک ہ کسانوں کے مسائل حل کرنے کیلئے مستقبل قریب میں منعقد شدنی پانچ ریاستوں سے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور وزیر اعظم کو سبق سکھانے اور بی جے پی کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کو بی جے پی کے ایجنٹ کو ریاستوں کا دورہ کرنے سے روکنا چاہئے جہاں اسمبلی انتخابات منعقد شدنی ہیں۔ زعفرانی جماعت کے اس ایجنٹ کو حیدرآباد اور تلنگانہ کے اندر ہی رہنا ہوگا۔ ٹکیت نے کہا کہ بھارتیہ کسان مورچہ اُن ریاستوں میں بی جے پی کو شکست دینے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی جہاں بہت جلد اسمبلی انتخابات منعقد شدنی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسان مورچہ میں مختلف کسان تنظیموں کے 40 سے زائد نمائندے شامل ہیں اور یہ تمام تنظیمیں باہم متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے مورچہ کو توڑ نے کی کئی بار کوشش کی مگر ہر بار انہیں منہ کی کھانی پڑی اس کے باوجود بی جے پی، مورچہ کو توڑ نے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

 بی جے پی کے تمام حربوں کے باوجود ہم باہم متحدہیں اور کسانوں کے کاز کیلئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال میں احتجاج میں شدت پیدا کرنے کیلئے مختلف پروگرامس رکھے گئے۔ سڑکوں کو روکدیا گیا۔ دہلی کے اطراف کی سڑکوں پر بیٹھ کر احتجاج کیا گیا۔ ریل روکو احتجاج بھی منظم کیا گیا۔ انہوں نے اس احتجاج کے دوران 750 سے زائد کسانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ بھارتیہ کسان مورچہ اسٹرگل کمیٹی کے قائدین حنان ملا ، اتل کمار انجن، سی پی آئی رعیتو سنگم کے سکریٹری وکنوینر اکھیلا بھارتیہ پوراٹا سمیوکنا کمیٹی پاشیا پدما، کنوینر ٹی ساگی، وی کرن اور دیگرنے خطاب کیا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.