تلنگانہ بی جے پی دفتر کے قریب کشیدگی

۔ مخلوعہ سرکاری ملازمتوں کو پُرکرنے کامطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے دفتر کے سامنے دھرنے کی بی جے وائی ایم نے اپیل کی تھی۔

 حیدرآباد: شہر  میں بی جے پی کے دفتر کے قریب آج کشیدگی پھیل گئی کیونکہ احتجاج کے لئے جانے کے لئے تیار بی جے وائی ایم کارکنوں کو پولیس نے روک دیا جس کے نتیجہ میں ان کارکنوں کی پولیس سے بحث وتکرارہوگئی۔اس واقعہ کے سبب کچھ دیر کیلئے ہلکی کشیدگی پھیل گئی۔مخلوعہ سرکاری ملازمتوں کو پُرکرنے کامطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے دفتر کے سامنے دھرنے کی بی جے وائی ایم نے اپیل کی تھی۔

اسی دوران شراب کے ٹنڈرس کے مسئلہ پر محکمہ آبکاری کے دفتر کامحاصرہ کرنے مہیلامورچہ نے اعلان کیا،ان دونوں احتجاجی پروگراموں کی اطلاع کے ساتھ ہی پولیس چوکس ہوگئی۔بڑی تعداد میں پولیس کو بی جے پی کے دفتر کے قریب تعینات کردیاگیااور دھرنا کی شروعات سے پہلے ہی بی جے وائی ایم کارکنوں کو حراست میں لے لیاگیا جس کے سبب بی جے وائی ایم کے کارکنوں نے پولیس پر برہمی کااظہار کیا اور پولیس سے ان کی بحث وتکرار ہوگئی جس کے نتیجہ میں کچھ دیر کے لئے بی جے پی کے دفتر کے قریب کشیدگی پھیل گئی۔ان کارکنوں نے پولیس سے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنے کی اپیل کی گئی تھی تاہم پولیس نے اس احتجاج میں رکاوٹ پیدا کرنے کی ہے جونامناسب ہے۔

اس موقع پر پولیس نے کہا کہ احتیاطی طورپر گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ پولیس نے بی جے پی کے دفتر کوجانے والی سڑک کو بند کردیا اورزعفرانی جماعت کے لیڈروں،کارکنوں کے ساتھ ساتھ پارٹی لیڈروں کے حامیوں کو روک دیا۔ساتھ ہی دفتر پبلک سرویس کمیشن اور محکمہ آبکاری کے دفتر کے سامنے سیکوریٹی میں اضافہ کردیاگیا۔بی جے وائی ایم مہیلامورچہ کی لیڈروں سے پولیس نے کہاکہ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

دوسری طرف بی جے پی کے کارکنوں نے پولیس پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف اندراپارک پر ٹی آرایس کے دھرنا کے موقع پر پولیس بندوبست کیاجارہا ہے تو دوسری طرف بی جے پی کو احتجاج سے روکا جارہا ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.