حکومت‘ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

ریاستی وزیر افزائش مویشیاں ٹی سرینواس یادو نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کررہے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ ہائیکورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیالنج کرنے کا فیصلہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کے بعد لیا تھا۔

حیدرآباد: ریاستی حکومت نے تلنگانہ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف جس میں حسین ساگر میں پلاسٹر آف پیرس (پی او پی) سے بنی گنیش مورتیوں کے وسرجن پر پابند عائد کردی ہے‘ سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔ آج یہاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی وزیر افزائش مویشیان وسمکیات ٹی سرینواس یادو نے بتایا کہ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ کی جانب سے چہارشنبہ کو فیصلہ صادر کئے جانے کا امکان ہے۔ اس بات سے انہوں نے بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی اور وشوا ہندو پریشد کے ذمہ داروں کو بھی واقف کرایا جو ان سے سکریٹریٹ میں ملاقات کیلئے آئے تھے۔

  ٹی سرینواس یادو نے کہا کہ ہم‘ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کر رہے ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیالنج کرنے کا فیصلہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کے بعد لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں گنیش جلوس کی برسوں سے اپنی انفرادیت ہے اور اس تہوار کے نقائص سے پاک انعقاد کیلئے حکومت کی جانب سے ممکنہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال نہ صرف حیدرآباد بلکہ ریاست کے مختلف مقامات سے بھکتوں کی بڑی تعداد حسین ساگر پہنچ کر گنیش وسرجن تقاریب میں شرکت کرتی ہے۔ سپریم کورٹ ہماری اپیل پر مثبت فیصلہ صادر کرے گا۔

آئی اے این ایس کے مطابق حکومت تلنگانہ امکان ہے کہ ریاستی ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف جس میں عدالت العالیہ نے شہر حیدرآباد کی مشہور تاریخی جھیل حسین ساگر میں پی او پی (پلاسٹر آف پیرس) سے بنی گنیش مورتیوں کے وسرجن پر امتناع عائد کردیا ہے‘ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی۔ تلنگانہ ہائیکورٹ نے پیر کے روز صادر کردہ اپنے احکام میں ترمیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو؍آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.