‘خانگی دواخانوں میں ڈینگو کا علاج کافی مہنگا’

کارپوریٹ ہاسپٹلس میں یومیہ 40 ہزار روپے بھی چارج کئے جارہے ہیں۔ جبکہ دیگر دواخانوں میں ڈینگو کے علاج پر ایک دن کیلئے20ہزار روپے اکھٹا کئے جارہے ہیں۔ ڈینگو کے ٹسٹ کے نام پر خانگی لیابس ہزاروں روپے حاصل کررہے ہیں۔

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ کے خانگی دواخانوں میں ایسا لگتا ہے کہ ڈینگو کا علاج کووڈ19 انفیکشن کے علاج سے زیادہ مہنگا ہوگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی ہاسپٹلس میں ڈینگو کے بشمول موسمی امراض کے علاج کے نام پر مریضوں کو لوٹا جارہا ہے۔ ٹسٹ اور علاج کے نام پر مریضوں کو ٹھگا جارہا ہے۔ خانگی دواخانوں میں ڈینگو علاج بہت مہنگا کردیا گیا ہے ہر ایک مریض سے ایک لاکھ سے زائد رقم وصول کی جارہی ہے۔

 کارپوریٹ ہاسپٹلس میں یومیہ 40 ہزار روپے بھی چارج کئے جارہے ہیں۔ جبکہ دیگر دواخانوں میں ڈینگو کے علاج پر ایک دن کیلئے20ہزار روپے اکھٹا کئے جارہے ہیں۔ ڈینگو کے ٹسٹ کے نام پر خانگی لیابس ہزاروں روپے حاصل کررہے ہیں۔ ڈینگو کے ابتدائی ڈیاگنوسس کیلئے19سو روپے وصول کئے جارہے ہیں جبکہ ڈاکٹر کی (پہلی بار) فیس اور متعدد طبی ٹسٹوں پر8ہزار سے10 ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں۔

 ریاست میں موسمی امراض عروج پر ہیں دریں اثنا ء سرکاری دواخانوں میں بیڈس کے حصول کیلئے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مجبوراً عوام کو مہنگے علاج کیلئے خانگی دواخانوں کا رخ کرناپڑرہا ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق ڈینگو اور موسمی امراض کی وبا اکتوبر کے وسط تک جاری رہے گی۔ اس کے بعد موسمی امراض کے کیس میں کمی آجائے گی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ خانگی ہاسپٹلوں میں ڈینگو کے علاج کیلئے نہ تو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں اور نہ ہی ریٹ (شرح) سلاب کا تعین کیا گیا ہے۔

حکومت نے اس بارے میں کچھ نہیں کیا ہے  خانگی ہاسپٹلس میں کووڈ کے علاج کیلئے رہنمایانہ خطوط وضع کئے گئے تھے اور شرح علاج کے سلاب بھی بنائے گئے تھے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈینگو کے ٹسٹ اور علاج کی شرح کا تعین کرے۔ محکمہ میڈیکل اینڈ ہیلت کے عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ ڈینگو کے ٹسٹ اور علاج کے نام پر خانگی لیا بس اور ہاسپٹلوں میں لوٹ مار جاری ہے اور محکمہ کو اس سلسلہ میں کئی شکایات بھی وصول ہوئی ہیں۔

متعلقہ

 حکام کی خانگی دواخانوں پر کوئی مانیٹرنگ نہیں ہے جس کے سبب خانگی ہاسپٹلس میں عوام بالخصوص غریبوں کو لوٹا جارہا ہے۔ڈائرکٹر پبلک ہیلت ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے خانگی ہاسپٹلس کو مشورہ دیا کہ وہ عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔ ا نہوں نے کہا کہ خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی پر خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر پلیٹ لیٹس 60ہزار تک بھی گر جاتے ہیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ گھریلو نسخوں کے ذریعہ سے بھی پلیٹ لیٹس کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ چند خانگی ہاسپٹلس، ڈینگو سے متعلق عوام کو خوفزدہ کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ایسی بھی شکایت ملی ہیں کہ پلیٹ لیٹس نارمل ہونے کے باوجودپلیٹ لیٹس چڑھانے کو ضروری بتاتے ہوئے مریضوں سے بھاری رقم حاصل کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر راؤ نے کہا کہ خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد 10ہزار تک بھی کم ہونے کے باوجود عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری دواخانوں میں خون کے اجزا کو الگ کرنے کی 22مشینیں دستیاب ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سہولت سے استفادہ کریں۔ خانگی دواخانوں میں بھاری وموٹی رقم دینے کے بجائے عوام کو سرکاری دواخانوں میں موجودہ سہولتوں سے استفادہ کرنا چاہئے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.