دھان کی خریداری کا مرکز سے مطالبہ، کے سی آر کا دھرنا

تلنگانہ کوریاست کا درجہ دیئے جانے کے بعد پہلی مرتبہ چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے اس دھرنے میں حصہ لیتے ہوئے مرکز کی نامناسب پالیسیوں کی مذمت کی اور ریاست کے ساتھ مرکز کے نامناسب و امیتازی سلوک کا الزام لگایا۔

حیدرآباد: دھان کی خریداری کے مسئلہ پر مرکزسے واضح موقف کامطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آر ایس کی جانب سے دھرنا دیا گیا۔ دھرناچوک اندراپارک میں دیئے گئے اس دھرنے میں چیف منسٹر کے چندرشیکھرراو سمیت ریاستی کابینہ کے تمام ارکان، ٹی آر ایس کے ارکان مقننہ، ارکان پارلیمنٹ، ضلع پریشد صدورنشین اور دیگر اہم رہنماوں نے حصہ لیا۔ یہ دھرنا،مرکزی حکومت پر دباو ڈالنے کے لئے دیا گیا۔ بعد ازاں ٹی آرایس کے وفد نے راج بھون میں گورنر ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراراجن سے ملاقات کی اور ان کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے اس مسئلہ پر مداخلت کی خواہش کی۔ریاست کے ساتھ مرکز کے امتیازی سلوک پر ٹی آرایس کا یہ دوسرابڑااحتجاج ہے۔

تلنگانہ کوریاست کا درجہ دیئے جانے کے بعد پہلی مرتبہ چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے اس دھرنے میں حصہ لیتے ہوئے مرکز کی نامناسب پالیسیوں کی مذمت کی اور ریاست کے ساتھ مرکز کے نامناسب و امیتازی سلوک کا الزام لگایا۔چیف منسٹر نے کہا کہ ٹی آرایس، دھان کی خریداری کے مسئلہ پر اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی مخالف کسان پالیسیوں اور تلنگانہ ریاست کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف یہ شدید احتجاج کیاجارہا ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نئے زرعی قوانین اور نئے بجلی کے قانون سے دستبرداری اختیار کرے۔ انہوں نے اس احتجاج کو شروعات قراردیااور کہا کہ ٹی آر ایس،شمالی ہند کے کسانوں کے ساتھ احتجاج میں شدت پیدا کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں ہمارے کسانوں کا تحفظ کرنا چاہئے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں سے کسانوں کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔موجودہ مرکزی حکومت زراعت کے خلاف ہے۔ ہم نے کئی مرتبہ مرکز سے کسانوں کے تئیں اس کے رویہ میں تبدیلی کی خواہش کی اور کسانوں کے ظالمانہ قوانین کو روکنے کے ساتھ ساتھ زراعت کیلئے بجلی کے میٹر لگانے کا طریقہ کو بھی تبدیل کرنے پر زوردیا لیکن مرکز سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اسی پس منظر میں ہم نے مرکز کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ جدوجہد نہیں رکے گی۔ یہ تو ابھی شروعات ہے۔ انتہا نہیں۔

انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت زرعی شعبے کو مستحکم کررہی ہے۔ہم نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ جس طرح پنجاب سے اناج کی خریداری کی گئی ہے اسی طرح تلنگانہ سے بھی اناج کی خریداری کی جائے تاہم مرکز سے کوئی جواب نہیں آیا۔چیف منسٹر نے کہا کہ گذشتہ روز انہوں نے اس خصوص میں وزیر اعظم مودی کو ایک خط لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اور ملک کو ہماری تکلیف کا علم ہونا چاہیے اسی لئے یہ دھرنا دیاجارہا ہے۔ چیف منسٹر نے واضح کرتے ہوئے کہا ہم نے شاندار جدوجہد سے تلنگانہ کو حاصل کیا۔ آج ہم نے تلنگانہ کے کسانوں کی پیداوار خریدنے اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے میں یہ جدوجہد شروع کی ہے، شہر حیدرآباد سے شروع ہونے والی یہ تحریک یہیں نہیں رکے گی۔ اگر ضروری ہو تو ہمیں دہلی کا سفر کرنا پڑے گا۔ ہمیں اپنے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔ تلنگانہ کی سرزمین جدوجہد، انقلابات کی سرزمین ہے۔

مرکزی حکومت کے یہ فیصلے تلنگانہ کے کسانوں کے لیے مشکل کھڑی کررہے ہیں۔ٹی آرایس کا احساس ہے کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے۔ پنجاب میں پیدا مکمل دھان کی خریدی کی جارہی ہے اور تلنگانہ سے دھان کی خریدی کے معاملہ پر خاموشی اختیار کی جارہی ہے جس سے کسانوں کو شدیدنقصانات کا اندیشہ ہے۔ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت تمام ریاستوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے۔ پارٹی نے کہا کہ مرکز اپنی دستوری ذمہ داری کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چاول کے اسٹاک پر مرکز سے وضاحت کی طلبی کے لئے اس پر دباؤ ڈالنے  چیف منسٹر نے اس دھرنے میں شرکت کی۔

حکمران جماعت کا ماننا ہے کہ بی جے پی کے ریاستی لیڈران کسانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ پنجاب کے خطوط پر ریاست سے دھان حاصل کرنے اور دوہرے معیار سے گریز کی ذمہ داری مرکز کی ہے۔ حکومت نے کہا کہ خریف سیزن کے دوران مرکز نے 40  لاکھ میٹرک ٹن دھان کے حصول کا نشانہ مقرر کیا ہے لیکن پنجاب کی طرح 90 فیصد پیداوار حاصل کی جائے۔وزراکا کہنا ہے کہ 2021ء کے خریف سیزن کے دوران تلنگانہ میں چاول کی پیداوار 55.75 لاکھ میٹرک ٹن ہوئی تھی لیکن صرف 32.66 لاکھ میٹرک ٹن دھان ہی خریدی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آبپاشی کی سہولتوں میں اضافہ کی وجہ سے ریاست میں فاضل غذائی اجناس پائی جاتی ہیں۔

 فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے حالانکہ کسانوں کی پیداوار خریدی جاتی ہے لیکن اس کی چند پالیسیوں کی وجہ سے کسانو ں کے ذہنوں میں الجھن پیدا ہورہی ہے اور ان پالیسیوں کے سبب ریاستوں کو بھی کاشت کی منصوبہ بندی میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور کسانوں کو بھی قائل کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بھی ریاستی حکومت کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مرکز کو چاہئے کہ وہ دھان کے حصول کا نشانہ مقرر کرتے ہوئے الجھن دور کرے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.