دیہی علاقوں میں 4 ہزار دواخانوں کے قیام کا منصوبہ:ہریش راؤ

ہریش راؤ نے کہا کہ حاملہ خواتین کے عارضہ قلب اور گردوں کے مسائل سے دوچار ہونے کی صورت میں دواخانے علاج فراہم کرنے آگے نہیں آرہے ہیں۔ اس طرح کے مسائل سے دوچار خواتین کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

حیدرآباد: ریاستی وزیر صحت ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ریاست کے دیہی علاقوں میں 4ہزار دواخانے قائم کئے جائیں گے اور ہر دواخانہ میں عوام کی صحت عامہ کی نگہداشت کے لئے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کا تقرر کیا جائے گا۔ ایک تلگو روزنامہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ ریاست میں تمام سرکاری دواخانوں میں کارپوریٹ ہاسپٹلس کے طرز پر خدمات فراہم کرنا حکومت تلنگانہ کے ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت تمام33اضلاع میں ریڈیالوجی لیابس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان لیابس میں ای سی جی، ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ،2D ایکو، سی ٹی اسکیان، ماموگراف و دیگر ٹسٹس کی سہولتیں حاصل رہیں گی۔

 ہریش راؤ نے کہا کہ حاملہ خواتین کے عارضہ قلب اور گردوں کے مسائل سے دوچار ہونے کی صورت میں دواخانے علاج فراہم کرنے آگے نہیں آرہے ہیں۔ اس طرح کے مسائل سے دوچار خواتین کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے نظامس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس(نمس) میں 200 بستروں پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ کئیر(ایم سی ایچ) قائم کیا گیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ ورنگل میں ایم جی ایم ہاسپٹل، سنٹرل جیل اور کاکتیہ میڈیکل کالج کی 215 ایکر اراضی پر ورنگل ہیلتھ سٹی تعمیر کی جارہی ہے۔

آئندہ دیڑھ سال میں ورنگل ہیلتھ سٹی کے تعمیراتی کام مکمل کرتے ہوئے اس کو قوم کے نام معنون کردیا جائے گا۔ اس طرح کے مزید اقدامات کرتے ہوئے ریاست میں شعبہ صحت عامہ کو مستحکم کیا جارہا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ریاست میں نارمل ڈیلیوریز (نارمل زچگی) کیلئے خصوصی منصوبہ پر عمل کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے تحت نرسس کو مڈ وائیفری کی تربیت دی جارہی ہے۔ اب تک ایساء کورس مکمل کرچکی نرسس کو ریاست کے مختلف مقامات پر 12ہاسپٹلس میں تقرر کیا گیاہے جہاں اچھے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد اے آئی سی یوز کی تعداد کو18 سے بڑھا کر 42 کردی گئی۔

حاملہ خواتین کیلئے خصوصی طور پر 5 اے آئی سی یوز قائم کئے گئے۔ آپریشن کے ذریعہ بچوں کی پیدائش کی وجہ سے فوری بچہ کوماں کے دودھ کی فراہمی میں مشکل ہورہی ہے۔ ان دونوں مسائل پر محکمہ صحت کی جانب سے توجہ دی جارہی ہے۔ ہریش راؤ نے اعتراف کیا کہ تقریباً دواخاوں کے مردہ خانوں سے شدید بدبو آنے کی بات صحیح ہے اور مردہ خانوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردہ خانوں میں ائیر کنڈیشنڈ،فریزرس کی عدم موجودگی بدبو کی اصل وجہ ہے۔ مسئلہ کا حل دریافت کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش جاری ہے۔ عصری ایر کنڈیشنڈ فریزرس حاصل کرتے ہوئے مردہ خانوں سے گندے پانی کو باہر بہاؤ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ان امور کی تکمیل کیلئے 25کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں۔

 وزیر صحت نے کہا کہ2014 سے پہلے ریاست میں صرف 2ڈائیلاسس سنٹرس تھے جن کو بڑھا کر اب43کردیا گیا۔ ان43مراکز کے ذریعہ 10,000 افراد کو خدمات فراہم کی جارہی ہے۔ اس مقصد کیلئے حکومت 100کروڑ روپے خرچ کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار تلنگانہ میں سنگل یوز ڈائیلاسس(Single Use Dialiser) استعمال کیا جارہا ہے جن کے اچھے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ ڈاکٹرس اور اہم طبی عملہ کے ڈیوئیزپر تاخیر سے امد کے مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ آیا سے لیکر سپرنٹنڈنٹ بشمول ڈاکٹرس کی کارکردگی پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہر ماہ ڈاکٹرس اور نیم طبی عملہ کی جانب سے فراہم کردہ خدمات کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ حیدرآباد کے اطراف پانچ سو پر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کے متعلق وزیر صحت نے کہا کہ دواخانوں کے متعلق ابتدائی رپورٹس تیار کرلی گئی ہے۔

 ایک ایک دواخانہ کی تعمیر پر رایک ایک ہزار کروڑ خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ کچھ رقم ریاستی حکومت اور کچھ بینک سے حاصل کرتے ہوئے تعمیراتی کام مکمل کئے جائیں گے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کی برخواستگی کے بعد سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ اسی طرح ورنگل میں 2000 بستروں پر مشتمل دواخانہ کی تعمیر کیلئے ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے کہا کہ ریاست میں کووڈ کی امکانی تیسری لہر کا سامنا کرنے کیلئے حکومت پوری طرح تیار ہے۔ اب تک15,203 بیڈس کو کووڈ علاج کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ جن میں 2170 آئی سی یو اور 13,033 عام نوعیت کے بیڈس ہیں۔ بچوں کیلئے نیلوفر ہاسپٹل میں 2000 بیڈس رکھے گئے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ18 مئی سے ریاست میں آیوشمان بھارت اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے جس کے بعد آروگیہ شری اسکیم کے تحت علاج کروا رہے  افراد کو پانچ لاکھ روپے تک کا علاج کرنے کی راحت ہوگی ہریش راؤ نے مزید کہا کہ آروگیہ شری اسکیم کے تحت ریاست میں 90.4 افراد کو خدمات فراہم کی جارہی ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت صرف26.1 لاکھ افراد کا ہی فائدہ ہوگا۔ آروگیہ شری کے تحت جہاں سالانہ1000کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں وہیں آیوشمان بھارت کیلئے مرکز سے ریاست کو صرف150 کروڑ روپے ہی حاصل ہوں گے۔ہریش راؤ نے کہا کہ تمام دواخانوں میں دونوں اسکیموں کے متعلق علیحدہ علیحدہ بورڈس آویزاں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.