رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کرنے ٹی آر ایس اور بی جے پی مصروف

بتایا جاتا ہے کہ سہ رخی مقابلہ میں کانگریس، دونوں جماعتوں ٹی آر ایس اور بی جے پی سے پیچھے ہے۔ کے سی آر، ضمنی الیکشن میں پارٹی امیدوار کی بہر صورت کامیابی چاہتے ہیں۔

حیدرآباد: حلقہ اسمبلی حضور آباد کے ضمنی الیکشن کیلئے صرف10دن باقی رہ گئے ہیں۔ بی جے پی اور ٹی آر ایس کی جانب سے رائے دہندگان کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ ٹی آرایس اور بی جے پی کی انتخابی مہم پر قریبی نظر رکھے ہوئے سیاسی تجزیہ نگاروں کا احساس ہے کہ حلقہ میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا اور کامیابی کا فرق بہت کم رہے گا۔

 بتایا جارہا ہے کہ کامیابی کا فرق5000 ووٹ سے بھی کم ہوسکتا ہے۔ٹی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے حلقہ کے عوام کی نبض جاننے کیلئے مسلسل سروے کروائے جارہے ہیں۔ دونوں پارٹی کے قائدین عوام کے سامنے غیر معمولی ہمت اور جراتمندی کا مظاہر کرتے ہوئے اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کررہے ہیں۔

باوثوق ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے کرائے گئے سرویز میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مقابلہ کانٹے کی ٹکر کا ہے اور کامیابی کا فرق بہت کم ہوگا۔ دونوں جماعتوں کے امیدوار اپنے اپنے اہم قائدین کی انتخابی مہم میں شرکت کے متعلق آس لگائے بیٹھے ہیں۔

ٹی آر ایس کی جانب سے پارٹی صدر کے چندر شیکھر راؤ اور بی جے پی کی جانب سے مرکز ی وزیر داخلہ امیت شاہ اور پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کی انتخابی مہم سے توقعات وابستہ رکھی گئی ہے۔ ٹی آر ایس کی طرف سے کے سی آر کے انتخابی مہم میں شرکت کرنے کے امکانات موہوم ہیں جبکہ بی جے پی ذرائع کے مطابق امیت شاہ اور جے پی نڈا کی انتخابی مہم میں شرکت کے متعلق کچھ واضح نہیں ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر اہم امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم کے انداز میں تبدیلی لاتے ہوئے عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ضمنی الیکشن کی تیسری فریق جماعت کانگریس نے بھی اپنی انتخابی مہم میں شدت پیدا کررہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سہ رخی مقابلہ میں کانگریس، دونوں جماعتوں ٹی آر ایس اور بی جے پی سے پیچھے ہے۔ کے سی آر، ضمنی الیکشن میں پارٹی امیدوار کی بہر صورت کامیابی چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ2023 کے انتخابات میں اس حلقہ میں ٹی آر ایس کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ رہے اس لئے صدر ٹی آر ایس نے ضمنی الیکشن کو اپنا وقار کا مسئلہ بنالیا ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.