ریاست میں الکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 23فیصد اضافہ

ریجنل ٹرانسپورٹ اتھاریٹی(آر ٹی اے) کے پاس دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ماہ اگست تک تلنگانہ میں بیٹری سے چلنے والی 11ہزار گاڑیاں دوڑ رہی تھیں جن میں 6ہزار الکٹرک کارس اور 4ہزار الکٹرک ٹووہیلرس شامل ہیں۔

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ میں الکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے اور شہر میں آلودگی میں کمی اس کا ثبوت ہے۔ جاریہ مالیاتی سال کے پہلے 8ماہ کے دوران دیکھا گیا ہے کہ الکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں گزشتہ سال اتنی ہی مدت کے مقابل 23فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

 ریجنل ٹرانسپورٹ اتھاریٹی(آر ٹی اے) کے پاس دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ماہ اگست تک تلنگانہ میں بیٹری سے چلنے والی 11ہزار گاڑیاں دوڑ رہی تھیں جن میں 6ہزار الکٹرک کارس اور 4ہزار الکٹرک ٹووہیلرس شامل ہیں۔ جولائی 2019میں صرف 5573الکٹرک کارس‘ 3690الکٹرک ٹو وہیلرس اور 40آر ٹی سی بسیس بھی چلائی جارہی تھیں۔

 اس انڈسٹری کے ماہرین  کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی میں کمی اور گاڑیوں کی کم قیمت کے سبب فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق فروخت میں اضافہ کے اہم عوامل میں الکٹرک گاڑیوں پر جی ایس ٹی کی شرحوں کو 12فیصد سے گھٹا کر 5فیصد کرنا‘ الکٹرک گاڑیوں کی خریداری میں اضافہ کیلئے سبسیڈی کی پیشکش اور مالک بننے کی لاگت کم ہونا شامل ہیں۔ ان ہی عوامل کے سبب ڈیزل یا پٹرول کی گاڑیوں کے بجائے الکٹرک گاڑیوں کی خریداری کیلئے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔

 الکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ‘ بالخصوص حیدرآباد جیسے میٹرو شہر کی فضاء کو بہتر بنانے میں اہم رول ادا کرے گا۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ الکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی اور انہیں فروغ دینے ریاستی حکومت کے حالیہ فیصلہ سے بھی زیادہ سے زیادہ لوگ مستقبل قریب میں ان کا انتخاب کریں گے۔

حکومت نے نیو تلنگانہ اسٹیٹ الکٹرک وہیکلس اینڈ انرجی اسٹوریج سالیوشن پالیسی کو منظوری دی ہے اور گاڑیاں تیار کرنے اور خریدنے والوں کیلئے مختلف مراعات کا اعلان کرتے ہوئے الکٹرک گاڑیوں کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.