ریاست میں 9 ہزار نہیں5 لاکھ غریب مسلم خاندان: محمد علی شبیر

محمد علی شبیر نے مزید کہا کہ اسد الدین اویسی‘ وٹے پلی شاستری پورم میں محل نما مکان میں رہتے ہیں۔ اگر سلم علاقہ وٹے پلی میں سروے کرایا جائے تو وہ یہ بتائیں گے کہ صرف وٹے پلی میں 9 ہزار سے زائد غریب مسلم خاندان سامنے آئیں گے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کانگریس نے آج ”مسلم پسماندگی“ سے متعلق نئی رپورٹ کو جسے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے پیش کیا تھا‘ مسترد کردیا۔ اسد الدین اویسی نے مسلم پسماندگی کی نئی رپورٹ پیش کرتے ہوئے 9ہزار مسلم خاندانوں کو فی خاندان 10لاکھ روپئے کی مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

 کانگریس نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں 5لاکھ غریب مسلم خاندان ہیں اور یہ خاندان‘ مالی امداد کے حصول کے اہل ہیں۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی سیاسی امور کمیٹی کے کنوینر وسابق وزیر محمد علی شبیر نے یہاں اپنے بیان میں جمعرات کے روز دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں 5لاکھ سے زائد ایسے مسلم خاندان ہیں جو مالی امداد کے حصول کے اہل ہیں۔ ان غریب مسلم خاندانوں کو دلت بندھو کے طرز پر فی خاندان 10لاکھ روپئے کی امداد دی جانی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے دلت بندھو اسکیم کو متعارف کرایا گیا تھا تب سے کانگریس کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ مائناریٹی بندھو کو بھی متعارف کراتے ہوئے تمام غریب اقلیتی خاندانوں کو فی خاندان 10لاکھ روپئے کی مالی امداد فراہم کی جائے۔ ہمارے اس مطالبہ کو قبول کرنے کے بجائے اسد الدین اویسی اور چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ کے مسلم خاندانوں کو فریب سے دوچار کرنے کیلئے ایک سازش رچی ہے۔

انہوں نے کمیشن آف انکوائری 2015-16کے ڈاٹا کو استعمال کیا اور اس میں جوڑ توڑ کرتے ہوئے یہ دکھایا گیا کہ ریاست میں 8.80لاکھ ہاؤز ہولڈس(مالکین مکان) ہیں اور ان میں صرف 9ہزار مسلم خاندان ہی‘ مائناریٹی بندھو اسکیم کے ثمرات سے استفادہ کے اہل ہیں۔

متعلقہ

محمد علی شبیر نے مزید کہا کہ اسد الدین اویسی‘ وٹے پلی شاستری پورم میں محل نما مکان میں رہتے ہیں۔ اگر سلم علاقہ وٹے پلی میں سروے کرایا جائے تو وہ یہ بتائیں گے کہ صرف وٹے پلی میں 9 ہزار سے زائد غریب مسلم خاندان سامنے آئیں گے۔

2019کے انتخابات میں اسد الدین اویسی نے 5,17,471ووٹ حاصل کئے تھے۔ ہم ان رائے دہندوں کو اگر خاندان کے اعتبار سے تقسیم کرتے ہیں تو ہر خاندان سے 6ووٹرس آتے ہیں اس طرح 86,245 خاندان ہوں گے جو ان کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اگر 9ہزار خاندان کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو مابقی 77245خاندان غریب نہیں ہیں؟ کیا انہیں دلت بندھو سے استفادہ نہیں کرنا چاہیئے؟

محمد علی شبیر نے کہا کہ ڈاٹا‘ تجزیہ اور پالیسی کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 43فیصد مسلمان کرائے کے مکانات میں رہتے ہیں۔ کیا ان کرائے کے مکانوں میں رہنے والے مسلمان‘ 10لاکھ روپئے کی امداد کیلئے اہل نہیں ہیں؟۔

 انہوں نے کہا کہ توڑ جوڑ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اویسی کا یہ کاز بہتر سے زیادہ نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی‘ حیدرآباد ایم پی کی رپورٹ کو مسترد کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غریب مسلمانوں کو بھی دلت بندھو کے طرز پر مالی امداد فراہم کرے۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.