سابق کلکٹر و ٹی آ رایس امیدوار کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کیا جائے: ریونت ریڈی

ریونت ریڈی نے بتایا کہ15 نومبر کو پی وینکٹ رامی ریڈی کا عہدہ سے مستعفی ہوجانا اور16 نومبر کو ٹی آ رایس میں شمولیت اختیار کرنا، حکمراں جماعت کے ساتھ ناپاک گٹھ جوڑ کو عیاں کرتا ہے۔

حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے سابق آئی اے ایس عہدیدار پی وینکٹ رامی ریڈی کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کردینے کا مطالبہ کیا۔ صدر ٹی پی سی سی اے ریونت ریڈی کی قیادت میں ایک وفد نے آج ریٹرننگ آفیسر برائے قانون ساز کونسل انتخابات سے ملاقات کرتے ہوئے تحریری یادداشت حوالہ کی۔  ریونت ریڈی نے کہا کہ سابق کلکٹر وضلع مجسٹریٹ سدی پیٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے چیف سکریٹری تلنگانہ کو مکتوب استعفیٰ حوالہ کیا جس کو فوراً قبول کرلیا گیا۔ جس کے بعد انہوں نے سی اسی جماعت ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی اور قانون ساز کونسل کے انتخابات کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کی جس کیلئے مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے31 / اکتوبر کو اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ لوک پال ایکٹ2013 کے سیکشن44 کے تحت سرکاری ملازم کو اپنے اثاثہ جات اور بقایا جات کی تفصیلات داخل کرنا لازمی ہے۔ مگر پی وینکٹ رامی ریڈی نے گذشتہ کئی سالوں سے اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات کو پیش نہیں کیا۔

 اس کے علاوہ ان کے خلاف اقربا پروری میں ملوث ہونے کا الزام میں شکایتیں بھی درج ہیں۔ ریونت ریڈی نے مزید کہا کہ پی وینکٹ رامی ریڈی کے مکتوب استعفیٰ کو منظور نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف سکریٹری تلنگانہ سے تحریری نمائندگی بھی کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف مرکزی تحقیقاتی ایجنسیز کے ذریعہ تحقیقات عمل میں لانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔

 انہوں نے بتایا کہ15 نومبر کو پی وینکٹ رامی ریڈی کا عہدے سے مستعفی ہوجانا اور16 نومبر کو ٹی آ رایس میں شمولیت اختیار کرنا، حکمراں جماعت کا ساتھ ناپاک گٹھ جوڑ کو عیاں کرتا ہے۔ صدر پردیش کانگریس نے کہا کہ ایک ایسا ء شخص جو دوران ملازمت حکومت کے ساتھ ناپاک گٹھ جوڑ رکھا ہو، کو کونسل انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ ایسے شخص کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کرتے ہوئے مکمل تحقیقات تک کسی بھی طرح کے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دیا جانا چاہئے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.