سکریٹریٹ میں دو مساجد کا مفتی خلیل احمد کے ہاتھوں سنگ بنیاد

گذشتہ سال سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے انہدام کے دوران مسجد ہاشمی اور مسجد دفاتر معتمدی کو بھی نقصان پہنچا تھا جس کے بعد حکومت نے ان دو مساجد کی جگہ خوبصورت عالی شان مساجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جھلکیاں
  • تعمیری مقام پر شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ کی امامت میں نماز ظہر کا اہتمام
  • کاموں کو اندرون ایک سال مکمل کرنے کا نشانہ
  • دونوں مساجد کا راستہ مین راستہ سڑک سے ہوگا
  • تقریب میں بہت کم افراد کو مدعو کیا گیا
  • دونوں مساجد کی تعمیر کیلئے1500 گز اراضی مختص کی گئی ہے
  • چیف منسٹر نے مسلمانوں سے معذرت خواہی بھی کی تھی
  • مندر،گرجا گھر اور گردوارہ کی تعمیری کاموں کیلئے علیحدہ طور پر تاریخ طئے کی جائے گی

حیدرآباد: شیخ الجامعہ، جامعہ نظامیہ مفتی خلیل احمد کے ہاتھوں آج سکریٹریٹ میں دو مساجد کے تعمیراتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ قبل ازیں مساجد کی تعمیر کے مقام پر مفتی خلیل احمد کی امامت میں نمازظہر ادا کی گئی اور 12بجکر20منٹ پر مساجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ واضح رہے کہ حکومت تلنگانہ نے گذشتہ روز سکریٹریٹ میں مساجد کے سنگ بنیاد تقریب منعقد کرنے کا غیر معمولی فیصلہ لیا تھا۔ اس تقریب میں بہت کم افراد کو مدعو کیا گیا۔ گذشتہ سال سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے انہدام کے دوران مسجد ہاشمی اور مسجد دفاتر معتمدی کو بھی نقصان پہنچا تھا جس کے بعد حکومت نے ان دو مساجد کی جگہ خوبصورت عالی شان مساجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا اور تعمیراتی کاموں کی ذمہ دری محکمہ عمارات وشوارع کے حوالہ کی تھی۔

 محمد مشتاق ملک کی قیادت میں تحریک مسلم شبان و دیگر مسلم تنظیموں نے مساجد کو دوبارہ اُسی مقام پر تعمیر کیلئے وقتاً فوقتاً احتجاج منظم کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ برقرار رکھا تھا۔ سکریٹریٹ میں مساجد کے انہدام پر مسلمانوں میں شدید ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے مسلمانوں سے معذرت خواہی بھی کی تھی۔ مساجد کے تعمیراتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کیلئے 2بار تاریخ کا اعلان بھی کیا گیا مگر نامعلوم وجوہات کی وجہ سے سنگ بنیاد تقاریب کو ملتوی کردیا گیا۔

گذشتہ روز حکومت نے حیریت انگیز فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی سادگی کے ساتھ سکریٹریٹ کے 2مساجد کے تعمیراتی کاموں کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔ سنگ بنیاد رکھنے کیلئے شیخ الجامعہ، جامعہ نظامیہ مفتی خلیل احمد کا انتخاب کیا گیا۔ آج12:30 بجے دن ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی، فلور لیڈر مجلس اتحاد المسلمین اکبر الدین اویسی، اراکین اسمبلی احمد پاشاہ قادری، احمد بن عبداللہ بلعلہ، صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ محمد سلیم، رکن قانون سازکونسل فاروق حسین، سابق ڈپٹی مئیر جی ایچ ایم سی بابا فصیح الدین، رکن وقف بورڈ مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری، منیر الدین مختار، سابق صدرنشین اقلیتی مالیاتی فینانس کارپوریشن، سید اکبر حسین و دیگر کی موجودگی میں دونوں مساجد کا سنگ بنیاد رکھاگیا۔

 یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے دونوں مساجد کی تعمیر کیلئے1500 گز اراضی مختص کی گئی ہے اور طئے شدہ ڈیزائن کے مطابق2.9 کروڑ روپے کے خرچ سے مساجد کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلہ میں ایک کروڑ روپے سے مساجد کے تعمیراتی کام اور دوسرے مرحلہ میں وضو خانہ، بیت الخلاء، امام کا کمرہ اور کوارٹر کی تعمیر عمل میں آئیگی۔

 مساجد کی تعمیر کو اندرون ایک سال مکمل کرنے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاکہ سکریٹریٹ کے افتتاح تک مساجد بھی افتتاح کیلئے تیار رہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے سکریٹریٹ میں مندر، گرجاگھر اور گردوارے کے تعمیراتی کاموں کے لئے بھی عنقریب علیحدہ علیحدہ تواریخ طئے کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.