ملک کی 42علاقائی جماعتوں میں ٹی آرایس کی آمدنی سب سے زیادہ

11اکتوبر2021 تک الیکشن کمیشن آف انڈیا میں پیش کردہ آڈیٹ فینانس رپورٹ کے مطابق 2019-20 کے دوران ٹی آرایس کی آمدنی 130.46 کروڑ رہی جبکہ 2018-19میں 188.71 تھی۔

حیدرآباد: 2019انتخابات کے بعد دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کی اہم سیاسی جماعتوں ٹی آرایس‘وائی ایس آرسی پی اور تلگودیشم پارٹی کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہواہے تاہم وائی ایس آرسی پی کی آمدنی سابق کے مقابلہ میں کم ہوئی۔ دوسری طرف تینوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مقررکردہ مدت 20جون 2021 سے قبل سالانہ اڈیٹ کردہ اکاونٹس کوپیش کردیاگیا۔

 ٹی آر ایس اوروائی ایس آرکانگریس کے اخراجات آمدنی سے کافی کم رہے جبکہ تلگودیشم پارٹی کے اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے۔ ای می آئی کی ویب سائٹ پر موجوداڈیٹ رپورٹ کے مطابق ملک کی 42علاقائی جماعتوں میں ٹی آرایس کی آمدنی سب سے زیادہ رہی۔ ٹی آرایس‘وائی ایس آر سی پی اورتلگودیشم پارٹی کا شمار ملک کی پانچ امیر ترین علاقائی جماعتوں میں ہوتا ہے۔ تینوں جماعتوں کو 2019-20 کے درمیان خاطرخواہ آمدنی ہوئی۔

دہلی سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک ریمنارمس نامی تنظیم کی جانب سے علاقائی جماعتوں کوحاصل آمدنی اور کئے گئے اخرجات پر کئے گئے تجزیہ کے مطابق 2018-19 کے مقابلہ میں 2019-20 کے دوران ٹی آرایس کی آمدنی میں 30.87 فیصد کمی آئی ہے جبکہ اسی عرصہ کے دوران وائی ایس آر سی پی کی آمدنی میں 48.79 فیصد اور تلگودیشم پارٹی کی آمدنی میں 20.38 فیصدکمی آئی۔

 11اکتوبر2021 تک الیکشن کمیشن آف انڈیا میں پیش کردہ آڈیٹ فینانس رپورٹ کے مطابق 2019-20 کے دوران ٹی آرایس کی آمدنی 130.46 کروڑ رہی جبکہ 2018-19میں 188.71 تھی۔ 2019-20 میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی آمدنی 92.739 کروڑ روپے رہی جبکہ 2018-19 کے دوران آمدنی 181.082 کروڑ تھی۔

اسی طرح تلگودیشم پارٹی کی 2019-20 میں آمدنی 91.53 کروڑتھی جبکہ 2018-19 میں 114.96 کروڑ تھی۔ملک کی پانچ بڑی علاقائی سیاسی جماعتوں میں ٹی آرایس‘شیوسینا‘وائی ایس آر کانگریس پارٹی‘تلگودیشم پارٹی اور بیجو جنتادل شامل ہیں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.