مولانا آزاد نے ملک میں تعلیم کی مضبوط بنیاد رکھی: اے کے خان

اے کے خان نے کہا کہ اقامتی اداروں اور مدارس میں بچوں کو خواہش کے مطابق شعبہ کو منتخب کرنے کی آزادی تھی اور ہے اس حصہ کے طور پر تعلیم سب کیلئے بھی قانون حق تعلیم بھی ہے۔

حیدرآباد: محکمہ اقلیتی بہبود کے حکومتی مشیر اے کے خان نے آج تعلیم، صحت اور حمل ونقل شعبہ جات میں خانگی اداروں کے گرانقدر تعاون کی ستائش کی اور کہا کہ تعلیم میں خانگی (بجٹ اسکولس) اور شعبہ صحت میں خانگی دواخانوں کے ساتھ شعبہ ٹرانسپورٹ میں بھی آٹوز اور دیگر خانگی گاڑیوں کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ73 فیصد سے زائد اسکولی بچے، بجٹ اسکولس میں پڑھتے ہیں جبکہ اسی طرح خانگی دواخانوں میں بھی مریضوں کی کثرت دکھائی دیتی ہے۔ آبادی کا تقریباً80 فیصد حصہ آج بھی خانگی ہاسپٹلس (بجٹ ہاسپٹلس) کی طبی خدمات سے استفادہ کررہا ہے۔ شعبہ حمل ونقل میں بھی خانگی سیٹر کا تعاون اہمیت کا حامل ہے۔

 انہوں نے ملک کے اولین وزیر تعلیم ومفسر قرآن مجید مولانا ابوالکلامؒ   کی 133 ویں یوم پیدائش کے موقع پر جمعرات کے روز قومی یوم تعلیم پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس پروگرام کا اہتمام اسوسی ایشن آف مائنا ر یٹی ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس (اے ایم ای آئی) کی جانب سے کیا گیا۔ فیڈریشن آف تلنگانہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ایل این پرسادآڈیٹوریم میں منعقدہ قومی یوم تعلیم سے خطاب کرتے ہوئے اے کے خان نے کہا کہ حکومت اور بیورو کریسی سطح پر بجٹ اسکولس کے رول کو کم تر نہیں سمجھا جاتا۔ ان اسکولوں میں بچوں کو ابتدائی جماعتوں کی تعلیم دی جاتی ہے اور سرکاری اور ایڈڈ مدارس سے تقابل کیا جائے تو بجٹ اسکولس کے بچوں کی کامیابی کا شرح تناسب70فیصد سے زیادہ ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ا ن بجٹ اسکولوں کو چلانے میں کئی ایک مصائب کا سامنا رہتا ہے۔ ایک یا دو کمروں یا چھوٹی عمارتوں میں کارکرد اسکولس کو چلانے کیلئے مختلف محکموں سے جو جھ نا پڑتا ہے۔ اسی طرح بجٹ کلینکس کا بھی اہم رول ہے جہاں غریب طبقات علاج ومعالجہ کیلئے رجوع ہوتے ہیں۔ شعبہ حمل ونقل (ٹرانسپورٹ) میں آٹوز، شیرنگ آٹو اور دیگر خانگی گاڑیوں کا تعاون بھی اہمیت کا حامل ہے۔ خانگی اداروں کی طرح حکومت کو بھی مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مائنا ریٹی ریسیڈنشیل اسکولس کے صدر کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان 204 اقامتی اداروں میں زیر تعلیم 40ہزار بچوں کو جن کا پس منظر معاشی پسماندگی سے رہتا ہے کی دیکھ بھال کرنا، ان کی تعلیم، غذا، ڈریس اور ان کے آرام و دیگر امور پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بچوں کے ساتھ کھانا کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ بچوں کو فراہم کی جانے والی غذا کے معیار کی جانچ کی جاسکے اس طرح بڑی کلاس کے بچوں کو جونیروں کوپڑھانے پر زور دیا جاتا ہے جس کا مقصد ان بڑے بچوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہوتا ہے۔

ملک کے تعلیمی میدان میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کے رول پر اے کے خان نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے بحیثیت ملک کے اولین وزیر تعلیم ہندوستان میں تعلیم کی ایک مضبوط بنیاد ڈالی ان کا یقین تھا کہ جمہوریت یانہ سیکولر ازم اور سب کے لئے تعلیم سے ہی ملک کی بقا اور ترقی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اداروں اور مدارس میں بچوں کو خواہش کے مطابق شعبہ کو منتخب کرنے کی آزادی تھی اور ہے اس حصہ کے طور پر تعلیم سب کیلئے بھی قانون حق تعلیم بھی ہے۔ غریب خاندانوں کے بچے، آئی آئی ٹی، این آئی  ٹی، میڈیکل اور دیگر اعلیٰ کورسس کی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ پروگرام میں ڈپٹی  سکریٹری اقلیتی بہبود احمد عبدالعظیم، اے ایم ای آئی کے صدر انور احمد، جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد ساجد علی اور دیگر نے خطاب کیا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.