ٹی آرایس کا بی جے پی سے تقابل نہیں کیا جاسکتا: کے کویتا

کویتا نے کہاکہ حضور آباد میں بھی ناگر جنا ساگر کے نتائج دہرائے جانا طئے ہے۔ ٹی آر ایس قائد نے ای راجندر سے پوچھا کہ ضمنی الیکشن کے انعقاد کی وجہ کیا ہے؟۔ کویتا نے کہا کہ ٹی آر ایس کے وجود میں آنے سے قبل علاقہ کے عوام اور ملازمین میں مایوسی تھی۔

حیدرآباد: ٹی آر ایس رکن کونسل کے کویتا نے کہا کہ بی جے پی کا ٹی آر ایس سے تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ آج اپنی قیامگاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی تاریخ رہی کہ ہمیشہ عوام کی فلاح وبہبود اور ترقی کیلئے اسکیمیں تیار کی گئی ہیں۔ جبکہ بی جے پی کا کارنامہ اس کے بالکل مختلف رہا۔

کویتا نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے کسانوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے رعیتوں بندھو اور رعیتوں بیمہ پروگرامس پر عمل کیا جارہا ہے تو دوسری طرف بی جے پی زرعی قوانین میں غیر ضروری طور پر تبدیلی لاتے ہوئے کسانوں کو مسائل کی نذر کردیا گیا ہے۔

اسی طرح صنف نازک کو بااختیار بنانے، خوشحال زندگی فراہم کرنے کیلئے ٹی آر ایس کی جانب سے مثالی اسکیموں پر عمل کیا جارہا ہے تو دوسری طرف مرکز میں برسر حکومت بی جے پی پکوان گیاس سلنڈرس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے خواتین کو خون کے آنسوں بہانے پر مجبور کردیا گیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وباء کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے بیس لاکھ کروڑ روپے کے پیاکیج کا اعلان کیا گیا مگر عام پریشان حال عوام کو20روپے کا بھی فائدہ نہیں ہوا۔ ٹی آر ایس سے سیاسی سفر شروع کرتے ہوئے مختلف عہدے حاصل کرتے ہوئے معاشی اور سیاسی طور پر ترقی کرنے کے بعد پارٹی سے دغا بازی کئے کسی بھی قائد کو کوئی فائدہ نہیں ہوااور ای راجندر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔

 حضور آباد میں بھی ناگر جنا ساگر کے نتائج دہرائے  جانا طئے ہے۔ ٹی آر ایس قائد نے ای راجندر سے پوچھا کہ ضمنی الیکشن کے انعقاد کی وجہ کیا ہے؟۔ کویتا نے کہا کہ ٹی آر ایس کے وجود میں آنے سے قبل علاقہ کے عوام اور ملازمین میں مایوسی تھی، مگر کے سی آر نے اپنی مدبرانہ اور دانشمندانہ قیادت میں دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدم تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے وہ کارنامہ انجام دیا جس کے متعلق سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔

عوامی جدوجہد کے ذریعہ ساری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہوئے خوابوں کی ریاست تلنگانہ کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ آج بھی چھوٹی ریاستوں کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریکیں چلانے والے لوگ، کے سی آر سے ملاقات کرتے ہوئے مفید مشورے حاصل کرتے رہتے ہیں۔ کویتا نے کہا کہ ہماری ریاست کو اعزاز حاصل ہے کہ عوامی تحریک ا ور ریاستی نظم ونسق کو کامیابی کے ساتھ چلانے والا شخص تلنگانہ کا سپوت ہے۔

 ٹی آر ایس ایم ایل سی نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کے لئے شروع کردہ ہر اسکیم کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے فنڈس کی عدم اجرائی کے باوجود ٹی آر ایس حکومت نے کسی بھی اسکیم کو ختم نہیں کیا اور یہی بات ٹی آر ایس کو عوام پرور جماعت ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.