پردھان منتری فصل بیما اسکیم جعلی: کے سی آر

بی جے پی ارکان کے ضمنی سوال پر چیف منسٹر فوری اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ پردھان منتری فصل بیمہ اسکیم کے تحت انشورنس کمپنیاں مختلف شرائط عائد کررہی ہیں۔

حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج کہا کہ پردھان منتری (پرائم منسٹر) فصل بیمہ یوجنا جعلی ہے۔ حکومت کی موجودہ فصل بیمہ پالیسی غیر سائنٹفک ہے۔ اسمبلی میں جمعہ کے روز وقفہ سوالات کے دوران بی جے پی ارکان راجہ سنگھ اور رگھونندن راؤ کے ضمنی سوال پر مداخلت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے مرکز کی پرائم منسٹر فصل بیمہ یوجنا کو جعلی قرار دیا اور اور فصل بیمہ سے متعلق مرکزی حکومت کی پالیسی کو غیر سائنٹفک قرار دیا۔

 بی جے پی کے ارکان نے ضمی سوال کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے سال2015-16کے دوران کسانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے799کروڑ روپے جاری کئے تھے مگر ریاستی حکومت نے ایک سال کیلئے اس فنڈ کو دوسرے مقاصد میں استعمال کیا جبکہ ایک سال بعد کسانوں میں یہ رقم ادا کی گئی۔

بی جے پی ارکان نے کہا کہ سیڈس (تخم) فرٹیلائزس اور یوریا پر مرکز سبسیڈی دے رہا ہے۔ مگر ریاستی حکومت اس سبسیڈی کی رقم سے کسانوں کو فائدہ نہیں پہنچا رہی ہے بلکہ اس رقم کے ذریعہ رعیتو بندھو کے نام سے اسکیم شروع کی گئی ہے۔ ان ارکان نے کہا کہ 50 فیصد سے زائد بارش سے فصلوں کو نقصانات کے سبب کسانوں کو معاوضہ ادا کرنا چاہئے۔ فصلوں کی تباہی پر کسانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے ہی مرکز نے پردھان منتری فصل بیمہ اسکیم شروع کی ہے۔

بی جے پی ارکان کے ضمنی سوال پر چیف منسٹر فوری اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ پردھان منتری فصل بیمہ اسکیم کے تحت انشورنس کمپنیاں مختلف شرائط عائد کررہی ہیں۔ موضع میں تمام فصل تباہ ہوجائے تب انشورنس کمپنیاں، مطالبہ کی یکسوئی کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینکرس، کسانوں کو قرض دے رہے ہیں تاہم وہ انشورنس پر یمیم کی رقم منہا کررہے ہیں۔ پریمیم کے طور پر 948 کروڑ روپے ادا کئے گئے ہیں جس میں سے کسانوں کو معاوضہ کے طور پر 776 کروڑ روپے وصول ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انشورنس کمپنیاں، کسانوں کی رقم سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انشورنس پالیسی میں کئی نقض ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے تاکہ بنیادی سطح پر کسانوں کو فصل بیمہ کے ثمرات سے فائدہ پہنچے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بارش اور سیلاب سے فصلوں کو پہنچے نقصان کی رپورٹ، مرکز کو پیش کردی ہے۔ نقصانات کے تخمینہ کا جائزہ لینے کیلئے مرکز، ٹیم روانہ کرتا ہے اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ ٹیم، تاخیر سے پہنچتی ہے جس سے عمل کی تکمیل میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔

حالیہ گل آب طوفان کی تباہ کاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی ضلع کلکٹرس کو حالیہ طوفان سے فصلوں اور دیگر کو پہنچے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا ہے۔ ہم رپورٹس کا انتظام کررہے ہیں اور حکومت، عوام بالخصوص کسانوں کو ممکنہ مدد فراہم کرے گی جنہیں حالیہ بارش اور سیلاب سے شدید نقصان ہوا ہے۔

 چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں اگر چیکہ قول دار کسانوں کی تعداد کم ضرور ہے، مگر انہیں حالیہ بارش اور سیلاب سے نقصان ہوا ہے تاہم حکومت، ان قول دار کسانوں کی بھی مدد کرے گی۔ انسانی ہمدردی کی اساس پر ان کسانوں کی مکمل مدد کی جائے گی۔

قبل ازیں ایوان میں کانگریس ارکان کے راج گوپال ریڈی، ٹی جیہ پرکاش ریڈی، ڈی سریدھربابو کے علاوہ بی جے پی کے رگھو نندن راؤ اور راجہ سنگھ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر زراعت ایس نرنجن ریڈی نے اس بات کی تردید کی کہ حالیہ بارش اور سیلاب سے ریاست میں مختلف فصلیں شدید طور پر تباہ ہوگئیں جس سے کسانوں کو فی ایکٹر 15ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.