پنچایت راج فنڈس کی منتقلی، اسمبلی میں کے سی آر کی تردید

کانگریس کے ارکان اسمبلی بھٹی وکرامارکہ، ڈی سریدھر بابو، ڈی انا سیویا نے الزام عائد کیا کہ حکومت، فنڈس کو منتقل کررہی ہے۔ اس دوران چیف منسٹر کے سی آر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے پنچایت راج فنڈس کو منتقل نہیں کیا ہے۔

حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کانگریس کے ارکان کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ حکومت، پنچایت راج کے فنڈس کو دیگر مقاصد کیلئے منتقل کررہی ہے کانگریس کے ارکان اسمبلی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ایوان میں انہیں اس طرح جھوٹے الزامات عائد کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اسمبلی کی کاروائی کا آج دوبارہ آغاز ہوا۔

 وقفہ صفر کے دوران وزیر پنچایت راج ای دیا کر راؤ نے کہا کہ حکومت نے فنڈس کو نہیں روکا ہے۔ گرانائٹ، ریت، کانکنی، کرشرس سے حاصل ہونے والے اہم فنڈس کو پنچایت راج کو جاری کردئیے گئے کسی بھی فنڈ کو نہیں روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جی او60 کو بھی برخاست نہیں کیا گیا۔

 انہوں نے مرکز کی جانب سے جاری کردہ15738 کروڑ روپے کو بھی دیگر مقاصد کیلئے منتقل کرنے کے الزامات کی تردید کی۔ مرکزی حکومت نے ایمپلائمنٹ گیارنٹی اسکیم کے تحت15738 کروڑ روپے جاری کئے تھے۔ تاہم ریاستی حکومت نے اس فنڈ کو منتقل نہیں کیا ہے۔

 کانگریس کے ارکان اسمبلی بھٹی وکرامارکہ، ڈی سریدھر بابو، ڈی انا سیویا نے الزام عائد کیا کہ حکومت، فنڈس کو منتقل کررہی ہے۔ اس دوران چیف منسٹر کے سی آر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے پنچایت راج فنڈس کو منتقل نہیں کیا ہے۔کے سی آر نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے مواضعات کے حالات کو بدلتے ہوئے ملک بھر میں تلنگانہ کے سرپنچوں کے مقام کو بلند کردیا ہے۔

 انہوں نے یاد دلایا کہ تلنگانہ کے کئی دیہاتوں کو ان کی شاندار ترقی پر مرکز کی جانب سے ایوارڈز بھی ملے ہیں جبکہ پڑوسی ریاست کی حکومتیں بھی اس مسئلہ پر حیران ہیں۔ تلنگانہ کے مواضعات کی نئی صورت گری سے پڑوسی ریاستوں کی حکومتیں بھی ششدر ہیں۔

 کے سی آر نے الزام عائد کیاکہ کانگریس حکومت نے اپنے آخری 10برسوں کی حکومت میں مجموعی طور پر ایک شخص پر پیسہ خرچ کیا تھا جبکہ موجودہ ٹی آر ایس حکومت650 افراد پر فنڈس خرچ کررہی ہے۔ پیشرو حکومت میں کئی پنچایت اداروں کو تحلیل کردیا گیا تھا اور ان پنچایتوں پر سابق حکومت کا بھاری قرض تھا۔

 چیف منسٹر نے کہا کہ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران حکومت نے وزراء اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں روکدی تھیں جبکہ گرام پنچایتوں کو بلا روک ٹوک ادا ئیگی کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔چیف منسٹر نے اس مسئلہ کو ایوان میں اٹھانے پر کانگریس ارکان کی ستائش کی اور کہا کہ کانگریس ارکان اور حکومت کو اس مسئلہ پر اپنے خیالات کے اظہار کا ایک اچھا موقع ہاتھ آیا ہے۔

دیہاتوں میں ترقیاتی کام ہوئے یا نہیں اس کا فیصلہ خود عوام کریں گے۔ انہوں نے اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی سے خواہش کی کہ وہ منریگا کے ساتھ پلے پرگتی اور پٹنا پرگتی پر ایوان میں مباحث کیلئے ایک دن مختص کریں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.