پولیس ایکشن قتل عام کیلئے مرکزی حکومت معذرت خواہی کرے

دفتر تعمیر ملت مدینہ مینشن نارائن گوڑہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن ڈاکٹر ایل پانڈو رنگا ریڈی اور صدر تعمیر ملت محمد ضیأ الدین نیّر نے یہ مطالبہ کیا۔

حیدرآباد: مملکت حیدرآباد کے ہند یونین میں انضمام کے لئے ستمبر 1948 میں کئے گئے آپریشن پولو یا پولیس ایکشن کے دوران مسلمانوں پر کئے گئے مظالم‘ لاکھوں افراد کے قتل عام‘ غارت گیری‘ آتشزنی‘ عورتوں کی بے حرمتی اور مال و املاک کی تباہی کے واقعات پر حکومت ہند سے معذرت خواہی کرنے کا تلنگانہ کونسل فار ہسٹاریکل ریسرچ اور کل ہند مجلس تعمیر ملت نے مطالبہ کیا ہے۔

آج دوپہر دفتر تعمیر ملت مدینہ مینشن نارائن گوڑہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن ڈاکٹر ایل پانڈو رنگا ریڈی اور صدر تعمیر ملت محمد ضیأ الدین نیّر نے یہ مطالبہ کیا۔

کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی نے مملکت حیدرآباد کے خاتمہ اور اس کے ہند یونین میں انضمام اور رضا کاروں کے نام سے مختلف گروہوں کی جانب سے کی گئی شرپسندیوں اور شرارتوں کا دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے تفصیلات بتائیں۔

انہو ں نے کہا ظلم و زیادتیوں پر معذرت طلب کرنا نئی بات نہیں ہے۔ ملکہ ایلزیبتھ نے جلیان والا باغ سانحہ کے لئے معذرت خواہی کی تھی‘ اسی طرح 1984 کے آپریشن بلو اسٹار کے لئے کانگریس سرکار نے معذرت خواہی کی تھی۔ 

انہوں نے پنڈت سندر لال کمیٹی کی رپورٹ کا ذکر کیا جس میں اس تباہی کی جھلک موجود ہے۔ اس رپورٹ کو کئی دہوں تک چھپائے رکھا گیا اور 2013میں اسے دہلی کی لائبریری میں رکھا گیا ہے۔

کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی کا تعلق گورکھا رائفلز سے رہا ہے اور ان کو جنگ کی ڈائریاں War Diaries   لکھنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

اس سلسلہ میں انہوں نے اس وقت کے اکولہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ مسٹر رستم کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔‘ جس میں انہو ں نے انکشاف کیا کہ ان کو ہدایت ملی تھی کہ پولیس کے جوانوں او ر ہوم گارڈز کو داڑھیاں رکھوائیں۔

ان کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار دس بارہ کلو میٹر تک کے علاقوں میں لوٹ مار مچائی جاتی اور رضا کاروں کا نام استعمال کیا جاتا تھا۔

مسٹر رستم اب بھی بقید حیات ہیں اور ممبئی میں مقیم ہیں‘ اگر کوئی چاہے تو ان سے انٹرویو لے سکتا ہے۔ کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد کا انضمام 17ستمبر کو ہرگز نہیں ہوا۔ 18ستمبر کو جنرل عیدروس نے ہتھیار ڈالے‘ ان کو خرید لیا گیا تھا۔ 17ستمبر کو یوم نجات منانے کا مطالبہ قطعی غلط اور غیر واجبی ہے۔ اور یہ مطالبہ 1972کے بعد سے شروع ہوا۔

17ستمبر 1948کو ریڈیو سے حیدرآباد کے انضمام کے اعلانات ہوئے‘ جس کے بعد اقوام متحدہ میں دائر مقدمہ کی کارروائی بھی روک دی گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سلامتی کونسل سے یہ مقدمہ واپس نہیں لیا گیا۔ کیپٹن صاحب نے کہا کہ حیدرآباد کا اصل انضمام تو جنوری1950میں ہی ہوا اور نظام نے ہی دستور کا افتتاح کیا۔

کونسل فار ہسٹاریکل ریسرچ کے سکریٹری ٹی ویویک نے پانڈو رنگاریڈی کو اعزازی پی ایچ ڈی عطا کرنے کا مطالبہ کیا۔ کیونکہ موصوف نے عثمانیہ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ داخل کیا ہے لیکن عثمانیہ یونیورسٹی کا اصل لوگو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈگری حاصل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ موصوف کو ایم ایل سی نامزد کیا جائے تاکہ وہ ایوان میں تلنگانہ کی حقیقی آواز بلند کرسکیں۔ اس موقع پر کونسل کے رکن عاملہ جی وشنو سوروپ ریڈی کے علاوہ تعمیر ملت کے نائب صدر ڈاکٹر محمد مشتاق علی‘ چیف آرگنائزر محمد وہاج الدین صدیقی‘ نائب معتمد عمومی سیف الرحیم قریشی اور محمد علی سلیم بھی موجود تھے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.