کئی جہدکاروں کو گھروں پرمحروس رکھا گیا

کنوینر جوائنٹ ایکشن کمیٹی و صدر تحریک مسلم شبان مشتاق ملک نے حکومت کے رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پولیس نے غیر ضروری محتاط کا مظاہرہ کیا ہے حالانکہ ہم نے مساجد کے سنگ بنیاد رکھے جانے کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ تحفظات کے اظہار کے ساتھ ہی مگر خیرمقدم ہی کیا تھا۔

حیدرآباد: سکریٹریٹ کی دو منہدم کردہ مساجد کی جگہوں پر نئی مساجد کی تعمیر کے لئے مقررہ سنگ بنیاد تقریب کے پیش نظر کئی مسلم قائدین خاص کر مذکورہ مساجد کی دوبارہ انہی جگہوں پر تعمیر جدید کے لئے قائم کردہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ سرگرم قائدین کو گھروں پر محروس رکھا گیا۔

کل رات ہی سے ایسے قائدین کی سرگرمیو ں پر کڑی نظر رکھی جانے لگی تھی اور اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ آیا یہ قائدین مساجد کے سنگ بنیاد کے تناظر میں کوئی لائحہ عمل تو تیار نہیں کررہے ہیں۔

کئی مسلم قائدین اور سماجی جہدکاروں کی رہائش گاہوں پر پولیس کا پہرہ بٹھادیا گیا تھا اور انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

شام چار بجے کے بعد ہی ان قائدین کے گھروں سے پولیس پہرہ ہٹایا گیا جس کے نتیجہ میں وہ باہر نکل سکے۔ کئی قائدین کو ظہر کی صلوٰۃ کی ادائی کے لئے مسجد بھی جانے نہیں دیا گیا۔

کنوینر جوائنٹ ایکشن کمیٹی و صدر تحریک مسلم شبان مشتاق ملک نے حکومت کے رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پولیس نے غیر ضروری محتاط کا مظاہرہ کیا ہے حالانکہ ہم نے مساجد کے سنگ بنیاد رکھے جانے کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ تحفظات کے اظہار کے ساتھ ہی مگر خیرمقدم ہی کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تقریب میں مدعو نہ کئے جانے کا کوئی افسوس اور ملال نہیں ہے مگر جس طرح دونوں مساجد کی تعمیر نو کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ ملزمین جیسا سلوک کیا گیا ہے اس سے حکومت کی شبیہ متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے گزشتہ دو ہفتوں سے جمعہ کے موقع پر کئے گئے اچانک احتجاج سے حکومت پریشان ہوچکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پرسوں رات کو بھی ٹولی چوکی میں شام کے وقت اچانک خاموش احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.