کونسل امیدواروں کے انتخاب میں مسلمان نظرانداز

۔ آج بھی پارٹی اورمسلمانوں کے درمیان دوری دیکھی جارہی ہے۔ مسلم قیادت میں دوری کوباٹنٹے اور حکومت کی اقلیتی طبقہ کی ترقی کے لئے کی جارہی کوششوں کو موثر اندازمیں پیش کرنے میں ناکام رہے۔

حیدرآباد: چیف منسٹروٹی آرایس سربراہ کے چندر شیکھرراؤ نے مسلسل دوسری بارکونسل کیلئے امیدواروں کے انتخاب میں سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کونظرانداز کردیا۔ ریاست میں بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے قیاس لگایا جارہاتھا کہ اس بار چیف منسٹر کسی ایک مسلم قائدکوکونسل کے لئے امیدوار بنائیں گے مگرچیف منسٹرنے مسلمانوں کو مایوس کردیا۔

واضح رہے کہ کبھی کونسل میں حکمراں جماعت سے چاراراکین کونسل ہوا کرتے تھے مگر موجودہ طورپرکونسل میں صرف محمدمحمودعلی اورفاروق حسین ہی باقی رہ گئے ہیں۔ چیف منسٹرجومسلمانوں کوسیاسی شراکت داری فراہم کرنے کے متعلق بیانات دیتے رہے ہیں کہ اس فیصلہ سے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔

دوسری طرف سیاسی تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ غالباً ٹی آرایس قیادت کااحساس ہوگا کہ مسلم قائد  کوکونسل کیلئے نامزدکرنے سے ٹی آرایس اور مسلم طبقہ کوکوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ آج بھی پارٹی اورمسلمانوں کے درمیان دوری دیکھی جارہی ہے۔ مسلم قیادت میں دوری کوباٹنٹے اور حکومت کی اقلیتی طبقہ کی ترقی کے لئے کی جارہی کوششوں کو موثر اندازمیں پیش کرنے میں ناکام رہے۔

 تجزیہ نگاروں کے مطابق پارٹی قیادت ہرکام خوداپنے طورپر کرتے ہوئے اقلیتوں کوپارٹی سے جوڑئے رکھنا چاہتی ہے۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ مستقبل میں نامزد عہدوں پر مسلمانوں کو اضافی عہدوں پر تقرر کیاجائے گا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.