کووڈ مہلوکین کے پسماندگان میں معاوضہ کی ادائیگی مقصود: حکومت تلنگانہ

ریاستی حکومتیں، دواخانوں میں دوران علاج فوت افراد کی نشاندہی کا عمل شروع کررہی ہے تاکہ ان کے پسماندگان کو معاوضہ کی رقم اداکی جائے۔ گھروں میں بھی دوران علاج کووڈ سے فوت افراد کے ورثا کو بھی معاوضہ کی ادائیگی پر غور کیا جارہا ہے۔

حیدرآباد: حکومت تلنگانہ، ریاست بھر میں ضلع واری اساس پر کمیٹیاں تشکیل دینے جارہی ہے جس کا مقصد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی (این ڈی ایم اے) کی سفارش پر کووڈ مہلوکین کے ورثا کو ایکس گریشیا کی ادائیگی کیلئے حقیقی مہلوکین کی نشاندہی کرنا ہے۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو ابتدائی رہنمایانہ خطوط جاری کئے تھے جس میں کووڈ مہلوکین کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاکہ مہلوکین کے ورثا کو ایکس گریشیا(معاوضہ) کی ادائیگی پر غور کیا جاسکے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی نے قبل ازیں وائرس کے انفیکشن سے دوران علاج فوت افراد کے ورثا کی فی کس50ہزار روپے کا معاوضہ دینے کی سفارش کی ہے۔

اتھاریٹی نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ کووڈ مہلوکین کے ورثا کو معاوضہ ادا کریں اور معاوضہ کی رقم اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ریسپانس فنڈ سے دینے کی تجویز دی تھی۔ این ڈی ایم اے کی تجویز پر مرکزی حکومت نے آخر کار مہلوکین کے ورثا کو مالی امداد کی فراہمی  کیلئے ریاستوں کو ابتدائی رہنمایانہ خطوط جاری کئے تھے۔

ریاستی حکومتیں، دواخانوں میں دوران علاج فوت افراد کی نشاندہی کا عمل شروع کررہی ہے تاکہ ان کے پسماندگان کو معاوضہ کی رقم اداکی جائے۔ گھروں میں بھی دوران علاج کووڈ سے فوت افراد کے ورثا کو بھی معاوضہ کی ادائیگی پر غور کیا جارہا ہے تاہم اس کیلئے متعلقہ متوفی کے افراد خاندان کو ڈاکٹروں سے کنسلٹنٹ کا صداقت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔

متعلقہ

حکومت تلنگانہ نے کووڈ سے مرنے والے افراد کی نشاندہی کے عمل کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن این ڈی ایم اے کی نئی تجویز کے بعد موثر انداز میں کام کاج کی ضرورت ہے۔ این ڈی ایم اے نے ضلع سطح پر کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔

ریکارڈ کے مطابق تلنگانہ میں کووڈ سے اب تک 3911 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایسے مریضوں کی جن کی موت کا ریکارڈ نہیں ہے کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔ ضلع سطح کی کمیٹی ایڈیشنل کلکٹر، اسپیشل میڈیکل آفیسر اور میڈیکل کالج کے پرنسپل پر مشتمل رہے گی۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پسماندگان کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.