ہندوستان کا2025 تک 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننانا ممکن: سابق گورنر آربی آئی

سابق گورنر رنگاراجن نے کہا کہ2021 میں کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے عائد کردہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی معاشی سرگرمیوں میں انحطاط آگیا۔ ہندوستان کی گھریلوپیداوار بھی گھٹ گئی۔

حیدرآباد: موجودہ صورتحال میں سال 2025 تک ہندوستان کا5ٹریلین امریکی ڈالس کی معیشت بننا ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے آئندہ5برسوں تک ملک کی سالانہ شرح نمو 9فیصد رہناضروری ہے۔ آر بی آئی کے سابق گورنر سی رنگاراجن نے جمعہ کے روز یہ بات کہی۔

 آئی سی ایف اے آئی فاؤنڈیشن فار ہائیر ایجوکیشن کے 11ویں کانوکیشن سے یہاں خطاب کرتے ہوئے رنگاراجن نے کہا کہ کووڈ19کی امکانی تیسری لہر کے منفی اثرات کو روکنے کیلئے ممکنہ مساعی انجام دینا ہوگا۔ کورونا ٹیکوں کے دوخوراکوں کی مہم کے بعد بھی خصوصی حکمت عملی کے تحت دیگر شعبہ جات سے زیادہ ہیلت انفرااسٹرکچر میں سرمیہ کاری کی رفتار کو تیز تر کرنا چاہئے۔

چند برس قبل یہ امید تھی کہ ہندوستان، 2025 تک5ٹریلین امریکی ڈالرس کی مضبوط معیشت بن جائے گا۔مگر اب ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ 2019 میں ہندوستان کی 2.7 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت کے ساتھ طاقتور ملک تھا۔ مارچ2022 تک بھی ہم اُس سطح پر ہیں۔ ہمیں 2.7 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت سے 5ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بننے کی سمت سفر کرنا ہے۔ آئندہ5برسوں تک ملک کی شرح نمو9 فیصد کو برقرار رکھنا ہوگا۔ رنگاراجن نے یہ بات کہی۔

انہوں نے کہا کہ2021 میں کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے عائد کردہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی معاشی سرگرمیوں میں انحطاط آگیا۔ ہندوستان کی گھریلوپیداوار بھی گھٹ گئی۔ لاک ڈاؤن تحدیدات کی برخواستگی کے بعد ملک کی معاشی سرگرمیاں بتدریج بڑھنے لگی ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ پہلی لہر کا معیشت پر گہرا اثر پڑا۔ دوسری لہر میں شعبہ صحت بُری طرح متاثر ہوا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.