یو پی انتخابات کے بعد مودی اور طالبان کے مذاکرات، اسد اویسی کا طنز

اویسی نے کہا کہ بھارت، اقوام متحدہ کی تحدیدات کمیٹی کا صدرنشین ہے۔ کیا وہ طالبان کے 100 ارکان کو اور حقانی نیٹ ورک کے کارکنوں کو دہشت گردی کی فہرست سے خارج کردے گا؟۔

حیدرآباد۔: صدر مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے طالبان کے ساتھ مودی حکومت کے مؤقف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں انتخابات تک ہی بی جے پی، طالبان کے خلاف ہوا کھڑے گی اور جوں ہی انتخابات ختم ہوجائیں گے باضابطہ سرکاری سطح پر طالبان کے ساتھ مذاکرات و معاملات کرے گی۔

یہاں آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری بیان کے مطابق طالبان کی درخواست پر مودی سرکارنے دوحہ میں بھارت کی سرزمین (بھارتی سفارت خانہ) میں طالبان کے نمائندہ سے بات چیت کی۔ ہم مودی سرکار سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا انہیں کباب کھلایا، دودھ پلایا، یا پھر بغیر دودھ کی چائے پلائی۔

انہوں نے پوچھا کہ آیا ان مذاکرات میں بھارت کی طرف سے یہ پوچھا گیا کہ صوبہ ہلمندمیں جہاں جیش محمد سرگرم ہے اورخوست میں لشکر طیبہ کا کیمپ سرگرم ہے کیا بھارت سرکار نے طالبان کے نمائندہ سے یہ کھل کر کہا کہ حاجی گاک میں کان کنی کے ہمارے جو حقوق ہیں اس کو برقرار رکھا جائیگا۔

اویسی نے کہا کہ بھارت، اقوام متحدہ کی تحدیدات کمیٹی کا صدرنشین ہے۔ کیا وہ طالبان کے 100 ارکان کو اور حقانی نیٹ ورک کے کارکنوں کو دہشت گردی کی فہرست سے خارج کردے گا؟۔ مودی سرکار دیش کو یہ بتائے کہ آیا طالبان دہشت گردہیں یا نہیں؟۔ اگر وہ دہشت گرد ہیں تو قانون انسداد غیر قانونی سرگرمیوں کی فہرست میں طالبان اور حقانیوں کو شامل کریں گے یا نہیں؟۔

یہ اس لئے ضروری ہے کہ آئے دن ایک مسلمان جو ترکاری بیچتا ہے تو وہ طالبانی ہے۔ بی جے پی کے لوگ ان کی مخالفت کرنے والوں کو چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہو طالبان قرار دے دیتے ہیں۔ اگر نہیں مانتے تو کیا آپ جو اقوام متحدہ تحدیدات کمیٹی کی صدارت پر فائز ہیں، طالبان کے سرکردہ 100 قائدین اور حقانی نیٹ ورک کے قائدین کو فہرست سے خارج کریں گے؟۔

اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو کیابی جے پی اپنی ترجمان، میڈیا میں اپنے دوستوں سے کہیں گے وہ اپنے مخالفین کو طالبانی قرار دینا بند کردیں۔اسد الدین اویسی نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے طلبہ ئ کے لئے تدارک دہشت گردی و انتہاپسندی کورس کو نصاب میں شامل کرنے کی تجویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت سے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ سے دو سو قدم کے فاصلہ پر جو اشتعال انگیز نعرے مسلمانوں کے خلاف لگائے گئے تھے، وہ لوگ کس کے نظریات سے متاثرہوکر انتہا پسند بنے ہیں؟ وہ لوگ کون تھے جو دہلی کے انتخابات سے قبل کہہ رہے تھے کہ دیش کے غداروں کو گولی مارو۔۔۔ایک فرد چوڑی فروخت کررہاہے تو اسے اس لئے مارا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص طبقہ کے مکینوں کے علاقہ میں کیونکر آیا۔

حیدرآباد کی ایک محترمہ نے ویڈیو جاری کیا، وہ کہہ رہی ہیں کہ مسلمان اگر ترکاری و میوہ فروخت کرتا ہے تو وہ دہشت گردی ہے۔ اس خاتون نے کس کے نظریات سے متاثر ہوکر یہ ویڈیوتیار کیا۔

انہوں نے پوچھا کہ کون انتہا پسندی کی طرف مائل ہورہا ہے اور کون ان کوطاقت ور بنا رہا ہے اورظلم کا شکار کون بن رہا ہے؟ کیا ایسے لوگوں کی مثالیں دے کر بتایا جائے گا کہ اس طرح سے انتہا پسندی پھیلتی ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ آیا وہ ایودھیا میں مجلس کا پرچم لہرانے کی تیاری کررہے ہیں، صدر مجلس نے کہا کہ ہم تو سارے بھارت میں مجلس کا پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ7ستمبر سے اترپردیش کے تین روزہ دورہ پر ہوں گے۔ اگرچہ وہ فیض آباد کا دورہ کررہے ہیں۔ ہاں وہ ضرور رودولی کا دورہ کررہے ہیں جو ایودھیا سے بہت ہی قریب ہیں۔ وہ سلطان پور اور بارہ بنکی کا بھی دورہ کریں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.