زرعی پراڈکٹس کی برآمدات کو فروغ دینے کی ضرورت: مرکزی وزیر زراعت

مرکزی مملکتی وزیر زراعت وبہبود کسان شوبھاکرندلا جے نے دعویٰ کیا ہے کہ زرعی مصنوعات کے برآمدات میں ہندوستان کو کلیدی مقام پر پہنچانے کیلئے مرکز‘ ریاستی حکومتوں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

حیدرآباد: مرکزی مملکتی وزیر زراعت و بہبود کسان شوبھاکرندلا جے نے آج زرعی پراڈکٹس (مصنوعات) کے برآمدات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مقررہ وقت میں پراڈکٹس کی برآمدات میں اضافہ کرنے سے کسانوں کی آمدنی کو دگنا کرنے میں مدد ملے گی۔

 انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ زرعی مصنوعات کے برآمدات میں ہندوستان کو کلیدی مقام پر پہنچانے کیلئے مرکز‘ ریاستی حکومتوں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر اگریکلچر آفیسرس کے اجلاس میں جو بی آر کے بھون میں منعقد ہوا‘ خطاب کرتے ہوئے شوبھا کرندلاجے نے کہا کہ زرعی پراڈکٹس کی برآمدات کو باقاعدہ بنانے اور اس پر قریبی نظر کیلئے ایک منظم سل کے قیام کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں مرکز سے تعاون حاصل کیا جانا چاہیئے۔

انہوں نے تلنگانہ میں 20لاکھ ایکر اراضی پر آئیل پام کی کاشت کے اقدامات کرنے پر ریاستی حکومت کی ستائش کی۔ ریاستی حکومت کے اس اقدام سے ملک کے سرمایہ کی بچت ہوگی۔

ریاستی وزیر زراعت ایس نرنجن ریڈی نے مرکزی وزیر کو زرعی پیداوار کو فروغ دینے کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں مختصر واقف کرایا۔ حکومت تلنگانہ کی مسا عی سے 7برسوں میں زرعی فصلی پیداوار 38فیصد سے بڑھ کر 68فیصد ہوگئی۔

حکومت کی خصوصی مساعی اور توجہ کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔ کسانوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے۔ دیہی نوجوان‘ زراعت کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے کالیشورم پراجکٹ کا تذکرہ کیا ہے جو انجینئرنگ کا ایک شاہکارہے۔

اس پراجکٹ کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر کی توجہ حکومت تلنگانہ کی اختراعی اسکیمات رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ کی طرف مبذول کرائی۔ ان دونوں اسکیمات پر کامیابی کے ساتھ عمل کیا جارہا ہے۔

سکریٹری زراعت رگھونندن راؤ نے بتایا کہ ریاست میں زرعی پیداوار میں اضافے  کے وجوہات میں آبپاشی‘ برقی‘ انوسٹمنٹ سپورٹ‘ سسٹم کو فروغ دینے‘ ان پٹ سبسیڈی‘ انفرااسٹرکچر سپورٹ اور کسانوں کو سوشل سکیوریٹی شامل ہیں۔ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وی پروین راؤ اور دیگر نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن  دیا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.