پہلے جیل کا کھانا کھاؤ، انیل دیشمکھ کو عدالت کا حکم

عدالت نے تاہم ان کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں جیل میں پلنگ بستر فراہم کرنے کی درخواست منظور کرلی۔ اسی دوران خصوصی عدالت نے ان کی عدالتی تحویل میں مزید 14 دن کی توسیع بھی کردی ہے۔

ممبئی: منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مہاراشٹرا کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ وہ پہلے جیل کا کھانا کھائیں اور بعد میں گھر کے پکوان کی فرمائش کریں۔ دراصل عدالت انیل دیشمکھ کی ایک درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں انہوں (دیشمکھ) نے عدالت سے گھر کے کھانے کی اجازت طلب کی تھی۔

عدالت نے کہا کہ پہلے جیل میں رہنا سیکھیں، جیل کا کھانا کھائیں۔ ان کی درخواست پر بعد میں غور کیا جائے گا۔ عدالت نے تاہم ان کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں جیل میں پلنگ بستر فراہم کرنے کی درخواست منظور کرلی۔ انیل دیشمکھ کی عمر اس وقت 71 برس ہے۔ اسی دوران خصوصی عدالت نے ان کی عدالتی تحویل میں مزید 14 دن کی توسیع بھی کردی ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے خصوصی پی ایم ایل اے جج ایچ ایس ستھ بھائی کے سامنے اپیل کی کہ چونکہ متعلقہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، اس لیے ملزم کی تحویل میں توسیع کی جائے۔

انیل دیشمکھ کے وکیل نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے دلیل دی کہ ایجنسی نے پہلے ہائی کورٹ کے 12 نومبر تک تحویل کے حکم سے اتفاق کیا تھا اور اس کے بعد اسے 15 نومبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نظر بندی میں توسیع کی درخواست ان کے مؤکل کو حراست میں رکھنے کے لیے ایک غیر منصفانہ طریقہ اور "دھوکہ دہی” کے سوا کچھ نہیں۔

متعلقہ

واضح رہے کہ دیشمکھ کو گزشتہ ہفتے پی ایم ایل اے 2002 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی دوران یہاں کی ایک سیشن عدالت نے ای ڈی کو ہدایت دی کہ وہ انیل دیشمکھ کے بیٹے ہرشی کیش دیشمکھ کو 20 نومبر تک گرفتار نہ کرے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.