این سی بی عہدیدار‘ بعض افراد کی غیرقانونی فون ٹیاپنگ میں ملوث: نواب ملک

نواب ملک نے ٹویٹ کیا کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطہ میں یہ مکتوب ڈائرکٹر جنرل این سی بی کو بھیج رہا ہوں کہ وہ اس مکتوب کو سمیر وانکھیڈے کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ بنائیں۔

ممبئی: مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک نے منگل کے دن این سی بی عہدیدار سمیر وانکھیڈے پر غیرقانونی فون ٹیاپنگ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ عہدیدار کی کالی کرتوتوں کا ایک مکتوب‘ این سی بی سربراہ کو سونپیں گے۔ اپنے داماد کی گرفتاری کے بعد سے سمیر وانکھیڈے کو نشانہ بنانے والے نواب ملک نے کہا کہ سمیر وانکھیڈے‘ ممبئی اور تھانے میں 2 افراد کی مدد سے بعض افراد کے موبائل فون غیرقانونی طورپر سن رہا ہے۔

 نواب ملک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سمیر وانکھیڈے نے پولیس سے ان کے ایک رکن خاندان کا سی ڈی آر(کال ڈاٹا ریکارڈ) منگوالیا تھا۔ وانکھیڈے نے پیر کے دن ممبئی کی عدالت میں داخل حلف نامہ میں دعویٰ کیا کہ انہیں اپنی گرفتاری کا اندیشہ ہے کیونکہ دیانتدارانہ تحقیقات بعض مفاداتِ حاصلہ کو گراں گزررہی ہے۔ عہدیدار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک مشہور سیاسی شخصیت(نواب ملک) انہیں شخصی طورپر نشانہ بنارہی ہے جس کی واحد وجہ یہ ہے کہ این سی بی نے اس شخصیت کے داماد‘ سمیر خان کو گرفتار کیا تھا۔

 نواب ملک نے کہا کہ وہ کسی کا لکھا ایک مکتوب این سی بی کے سربراہ ایس این پردھان کو بھیج رہے ہیں جو سمیر وانکھیڈے کی مختلف غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ این سی پی وزیر نے کہا کہ این سی بی کو مکتوب میں درج 26  الزامات کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔ مکتوب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ این سی بی میں ”جبری وصولی کا ریاکٹ“ چل رہا ہے۔

نواب ملک نے ٹویٹ کیا کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطہ میں یہ مکتوب ڈائرکٹر جنرل این سی بی کو بھیج رہا ہوں کہ وہ اس مکتوب کو سمیر وانکھیڈے کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ بنائیں۔ نواب ملک نے پیر کے دن دعویٰ کیا تھا کہ سمیر وانکھیڈے پیدائشی مسلمان ہے اور اس کا اصل نام سمیر داؤد وانکھیڈے ہے۔ نواب نے سمیر وانکھیڈے کا برتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا اور الزام عائد کیا کہ سمیر وانکھیڈے نے کاغذات میں جعلسازی کی ہے۔

متعلقہ

 این سی بی عہدیدار کے باپ نے تاہم اس کی تردید کی۔ منگل کے دن ممبئی میں میڈیا سے بات چیت میں نواب ملک نے کہا کہ میرے پاس یہ ثابت کرنے کے لئے مستند دستاویز موجود ہے کہ سمیر وانکھیڈے کی پیدائش‘ ایک مسلم گھرانہ میں ہوئی لیکن اس نے اپنی شناخت چھپاکر درج فہرست ذات (ایس سی) زمرہ میں نوکری حاصل کی۔ اسلام لانے والے دلتوں کو ریزرویشن کوٹہ نہیں ملتا۔ سمیر وانکھیڈے نے درج فہرست ذات والوں کا حق مارا ہے۔سمیر وانکھیڈے کے باپ کے اس بیان پر کہ اس کا نام داؤد نہیں ہے‘  نواب ملک نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ سمیر کا باپ ضلع واشم (سابق اکولہ) میں دلت کنبہ میں پیدا ہوا اور اس نے بعد میں سرکاری محکمہ آبکاری میں نوکری حاصل کی۔

 سمیر کے باپ نے ممبئی میں ایک مسلمان عورت سے شادی کی اور داؤد کا نام اختیار کیا۔ اسے 2 بچے ہیں۔ بعد میں اس کی سوچ بدلی اور اس نے کاغذات میں اپنے باپ کا نام استعمال کیا تاکہ بچوں کو ریزرویشن کا فائدہ ملے۔ نواب ملک نے سمیر وانکھیڈے کے باپ کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے لڑکے کا کاسٹ سرٹیفکیٹ دکھائے۔

 مہاراشٹرا کے وزیر نے کہا کہ 26 جنوری 1950 کے بعد ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ وہ ہندو پیدا ہوئے ہیں لیکن ہندو کی حیثیت سے مریں گے نہیں۔ اس وقت کی مرکزی حکومت نے فوری صدارتی حکم نامہ جاری کردیا تھا کہ سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن کا فائدہ صرف ہندو دلتوں کو ہی ملے گا۔

ہندوستانی قانون‘ مسلمان یا عیسائی بننے والے ایس سی افراد کو ریزرویشن کوٹہ فراہم نہیں کرتا۔نواب ملک نے الزام عائد کیا کہ سمیر وانکھیڈے اور اس کے بعض ساتھی جبری ریاکٹ چلارہے ہیں۔ ان کا حالیہ دورہ ئ مالدیپ اسی لئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ایک ہزار کروڑ کا معاملہ ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.