سرحدوں پر فوج‘ ہمیشہ تیار رہے:موہن بھاگوت

بھاگوت نے کہاکہ اب چین‘ پاکستان اور ترکی نے طالبان کے ساتھ ناپاک اتحاد کرلیا ہے۔ ہم غافل نہیں رہ سکتے۔ سرحدوں پر ہماری تیاریاں جاری رہنی چاہئیں۔ ایسی صورتِ حال میں حکومت کو ملک کی داخلی سلامتی اور استحکام کا تحفظ لازمی طورپر کرنا ہوتا ہے۔

ناگپور: آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے جمعرات کے دن کہا کہ دہشت گرد جموں وکشمیر میں اقلیتوں کو چن چن کر ہلاک کررہے ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں پر خوف طاری ہوجائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سرحد پر فوجی تیاریاں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ناگپور کے ریشم باغ میدان میں وجئے دشمی ریالی سے خطاب میں موہن بھاگوت نے وکالت کی کہ آئندہ 50 برس کو ذہن میں رکھتے ہوئے قومی آبادی پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔

انہوں نے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر مواد کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ کرپٹوکرنسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بٹ کوائن جیسی خفیہ اور بے قابو کرنسی تمام ممالک کی معیشت کو غیرمستحکم کرسکتی ہے۔ یہ سنگین چیلنجس پیدا کرسکتی ہے۔ جموں وکشمیر کے حالیہ دورہ کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی برخواستگی کا فائدہ عام آدمی کو مل رہا ہے لیکن مابقی ملک سے جذباتی یکجہتی کے لئے کوششیں ضروری ہیں۔

 موہن بھاگوت نے کہا کہ ذہنی ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ کسی بھی ہندوستانی کا اپنے ملک سے تعلق کاروباری معاملت نہیں ہے۔ہمیں کشمیر کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے حوالہ سے موہن بھاگوت نے کہا کہ اسلام کے نام پر مذہبی جنون ظلم اور دہشت گردی ہر کسی کو ان کے تعلق سے اندیشہ مند کردینے کے لئے کافی ہے۔

 اب چین‘ پاکستان اور ترکی نے طالبان کے ساتھ ناپاک اتحاد کرلیا ہے۔ ہم غافل نہیں رہ سکتے۔ سرحدوں پر ہماری تیاریاں جاری رہنی چاہئیں۔ ایسی صورتِ حال میں حکومت کو ملک کی داخلی سلامتی اور استحکام کا تحفظ لازمی طورپر کرنا ہوتا ہے۔ سوسائٹی (سماج) کو محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے حوالہ سے آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ کورونا وباء کے پس منظر میں آن لائن تعلیم متعارف کرائی گئی۔ اسکولی بچے موبائل فون سے چپک کر رہ گئے۔ حکومت کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے مواد کو باقاعدہ بنانے کی کوششیں کرنی چاہئیں۔

ملک میں بعض مندروں کے معاملات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ان مندروں کو چلانے کے حقوق ہندوؤں کو دے دیئے جائیں اور ان کی دولت صرف ہندو فرقہ کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہو۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کے مندروں پر سارا کنٹرول ریاستی حکومتوں کا ہے جبکہ مابقی ملک میں بعض کو حکومت چلاتی ہے اور بعض کو بھکت چلاتے ہیں۔

ماتو ویشنودیوی جیسے حکومت کے زیرکنٹرول مندر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ مندر بہت اچھی طرح چل رہا ہے۔ مہاراشٹرا کے بلڈھانہ کے گجانن مہاراج مندر اور دہلی کے جھنڈے والاں مندر کو بھکت چلاتے ہیں۔ یہ بھی اچھی طرح چل رہے ہیں لیکن وہاں لوٹ مچی ہوتی ہے جہاں مندر‘ اچھی طرح نہیں چلائے جارہے ہیں۔ ہندو مندروں کی دولت غیرہندوؤں کے لئے استعمال ہورہی ہے جو ہندو دیوی دیوتاؤں کو نہیں مانتے۔ ہندو ضرورت مند ہیں لیکن ان کے لئے یہ دولت استعمال نہیں ہورہی ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.