‘سمیر وانکھیڈے‘ پہلی شادی کے وقت مسلمان تھا’

مولانا مزمل احمد نے ایک نیوز چیانل سے کہا کہ میں نے سمیر وانکھیڈے اور شبانہ قریشی کا نکاح پڑھایا تھا۔ لڑکی کا باپ مجھ سے ممبئی کے لوکھنڈوالا کامپلکس میں نکاح پڑھوانے کے لئے رجوع ہوا تھا۔

ممبئی: نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی) کے زونل ڈائرکٹر ممبئی سمیر وانکھیڈے کا 2006 میں نکاح پڑھانے والے قاضی نے چہارشنبہ کے دن دعویٰ کیا کہ عہدیدار کا تعلق مسلم گھرانہ سے ہے ورنہ ازروئے اسلام نکاح ہوتا ہی نہیں۔ مہاراشٹرا کے وزیر اور این سی پی قائد نواب ملک الزام عائد کرچکے ہیں کہ سمیر وانکھیڈے پیدائشی مسلمان ہے لیکن اس نے جعلسازی کے ذریعہ خود کو ہندو ایس سی (درج فہرست ذات) دکھاکر مرکزی حکومت کی ملازمت حاصل کرلی۔

 مولانا مزمل احمد نے ایک نیوز چیانل سے کہا کہ میں نے سمیر وانکھیڈے اور شبانہ قریشی کا نکاح پڑھایا تھا۔ لڑکی کا باپ مجھ سے ممبئی کے لوکھنڈوالا کامپلکس میں نکاح پڑھوانے کے لئے رجوع ہوا تھا۔دولہا کا نام سمیر داؤد وانکھیڈے ہے جس نے شبانہ قریشی سے شادی کی۔ یہ پوچھنے پر کہ وانکھیڈے کا دعویٰ ہے کہ وہ ہندو ہے‘ قاضی نے کہا کہ سمیر وانکھیڈے ہندو ہوتا تو نکاح ہوتا ہی نہیں۔

 مولانا نے دعویٰ کیا کہ نکاح نامہ پر گواہوں کے دستخط موجود ہیں۔ سمیر وانکھیڈے اور اس کے اہل ِ خانہ اگر اس کے پیدائشی ہندو ہونے اور اس کے باپ کے بھی ہندوہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو میں کہوں گا کہ یہ غلط ہے۔ مولانا مزمل نے یہ بھی بتایا کہ نکاح نامہ میں مہر کی رقم33 ہزار روپے درج ہے۔

سمیر وانکھیڈے نے کہا تھا کہ وہ ہندو باپ اور مسلم ماں (زاہدہ) کا بیٹا ہے۔ ماں انتقال کرگئی ہیں۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کا تعلق کمپوزٹ اور سیکولر فیملی سے ہے اور اسے اس ورثہ پر فخر ہے۔ این سی بی عہدیدار نے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے ڈاکٹر شبانہ قریشی سے 2006 میں اسپیشل میاریج ایکٹ کے تحت شادی کی تھی۔ دونوں نے باہمی رضامندی سے 2016 میں سیول کورٹ کے ذریعہ طلاق لے لی۔ 2017میں اس نے مراٹھی اداکارہ کرانتی ریڈکر سے شادی کی۔

 اس نے یہ بھی کہا کہ سیکولر ملک میں ماں کی خواہش پوری کرنا جرم نہیں ہے۔ مجھے اپنے ملک میں سیکولرازم پر فخر ہے۔میری ماں مسلمان تھی اور باپ ہندو۔ میں دونوں سے بے حد پیار کرتا ہوں۔ سمیر وانکھیڈے نے زور دے کر کہا کہ اس نے اسلام کبھی بھی قبول نہیں کیا اور ہندوؤں کی ایک ذات سے اس کا تعلق ہے۔ اس نے کہا کہ پہلی شادی اندرون ایک ماہ اسپیشل میاریج ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوئی تھی۔ طلاق کا عمل بھی اسپیشل میاریج ایکٹ کے تحت مکمل ہوا۔

 اسی دوران سمیر وانکھیڈے کے باپ نے کہا کہ مجھے اردو نہیں آتی‘مجھے پتہ نہیں کہ نکاح نامہ میں میرا نام کیا لکھا گیا۔ ہوسکتا ہے میری مرحومہ بیوی نے محبت سے میرا نام داؤدلکھوایا ہوگا۔ لوگ پیار سے ایک دوسرے کو مختلف ناموں سے پکارتے ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.