شکتی ملز اجتماعی عصمت ریزی، خاطیوں کی سزا میں تخفیف

یہ واقعہ شام کے اوقعات میں اس وقت پیش آیا تھا جب نوجوان خاتون صحافی اپنے مرد ساتھی کے ساتھ بند پڑی ہوئی شکتی ملزم کے کمپاؤنڈ میں ایک اسائنمنٹ پر تھی۔چاروں نوجوانوں اور ایک نابالغ لڑکے نے انہیں راستہ میں روک لیا تھا۔

ممبئی: بمبئی ہائی کورٹ نے آج 3 آدی مجرمین کی سزائے موت میں تخفیف کرتے ہوئے اسے عمرقید بامشقت میں تبدیل کردیا۔ ان تینوں کو شکتی ملز کمپاؤنڈ میں 2013 میں ایک فوٹو جرنلسٹ کیعصمت ریزی کا خاطی قراردیا گیا تھا۔

جسٹس ایس ایس جادھو اور جسٹس پی کے چوان پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے خاطی ہونے کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے پرنسپل جج شالینی پھنسلکر جوشی کی ٹرائیل عدالت کے 2014کے حکم میں تخفیف کردی جس کے ذریعہ تینوں ملزمین 21 سالہ قاسم شیخ بنگالی‘ 28 سالہ سلیم انصاری اور 19 سالہ جادھو کی سزائے موت کو عمرقید بامشقت میں تبدیل کردیا۔

تینوں مجرموں اور ایک شخص سراج رحمن خان کے علاوہ ایک نابالغ نے بھی جس کی شناخت نہیں ہوسکتی‘ اس فیصلہ کے خلاف اپیل کی تھی۔

ان تمام پر 22 اگست 2013 کی اجتماعی عصمت ریزی واقعہ کے جرم میں مقدمہ چلایا گیا تھا جس نے ملک کو دہلادیا تھا۔

ججس نے رولنگ دی کہ دستوری عدالت، عوام کی رائے کی بنیاد پر سزا نہیں سنا سکتی۔ اگر اکثریت کی رائے سے متضاد بھی ہو تب بھی عدالت کو طریقہ کار پر عمل کرنا پڑتا ہے۔

تینوں خاطیوں کو اپنی سزائے عمرقید بامشقت کاٹنے کے دوران پیرول پر رہائی کا حق بھی حاصل نہیں رہے گا۔ دسمبر 2012 کے دہلی نربھئے اجتماعی عصمت ریزی کیس کے پیش نظر تعزیرات ِ ہند کی دفعہ 376 (ای) کے تحت سزا پانے والے یہ تینوں پہلے مجرم ہیں۔

یہ واقعہ شام کے اوقعات میں اس وقت پیش آیا تھا جب نوجوان خاتون صحافی اپنے مرد ساتھی کے ساتھ بند پڑی ہوئی شکتی ملزم کے کمپاؤنڈ میں ایک اسائنمنٹ پر تھی۔چاروں نوجوانوں اور ایک نابالغ لڑکے نے انہیں راستہ میں روک لیا تھا۔

اس واقعہ پر پورے ملک میں برہمی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ممبئی پولیس نے تمام ملزمین کو اندرون ایک ہفتہ گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.