طلاق ثلاثہ کیس کے ملزم کو عبوری ضمانت

ہائی کورٹ نے کہا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان پیدا تنازعات کی ثالثی کے ذریعہ یکسوئی ممکن ہے۔

ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے ایس ایم ایس کے ذریعہ مبینہ طور پر تین طلاق دینے والے ملزم شوہر کو عبوری ضمانت دی ہے۔

اس دوران ہائی کورٹ نے کہا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان پیدا تنازعات کی ثالثی کے ذریعہ یکسوئی ممکن ہے۔

جسٹس سندیپ شنڈے کی واحد رکنی بنچ آئی پی سی کی دفعہ 498 اے اور مسلم خواتین (تحفظ حقوق) قانون 2019 کی دفعہ 4کے تحت درج کیس میں ملزم کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کررہی تھی۔

شکایت کے مطابق خاتون نے اپریل 2015 میں ایک شخص سے شادی کی تھی۔ شادی کے ایک ماہ کے بعد ہی اس کے شوہر اور ساس نے جہیز کے لیے ذہنی اور جسمانی اذیتیں دینی شروع کردیں۔

خاتون سے اس کے شوہر اور رشتہ دار رقم کا مطالبہ کرنے لگے۔ مطالبہ کی عدم تکمیل پر اسے ہراساں کیا جانے لگا۔ اس کے بعد اس کے شوہر نے 29/ مئی کو اسے تین طلاق کا پیغام بھیجا۔

کچھ دنوں کے بعد جب خاتون نے اپنے شوہر کو گھر واپس لے چلنے کے لیے طلب کیا تو اس کے شوہر نے کہا کہ اگر وہ اپنے مائیکے سے رقم لے کر آئے گی تب ہی وہ اپنے گھر لے جائے گا۔

اس کے بعد خاتون نے شوہر کے خلاف شکایت درج کروائی۔ اس پر ملزم شوہر نے عبوری ضمانت کے لیے سیشن عدالت میں درخواست کی لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا۔

اس کے بعد ملزم شوہر نے عبوری ضمانت کے لیے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ جسٹس شنڈے نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ملزم شوہر کو راحت دے دی۔

جسٹس شندے نے اپنے احکام میں کہا کہ نچلی عدالت نے جس بنیا دپر عبوری ضمانت کی درخواست خارج کی تھی اس میں کہا گیاکہ شکایت کنندہ خاتون کے زیورات درخواست گزار کے قبضے میں ہیں جس کی تفصیلی جانچ ہونا ضروری ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.