غیربی جے پی ریاستوں کے گورنرس ”بدمست ہاتھی“: شیوسینا

مہاراشٹرا کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کا نام لیے بغیر پارٹی نے اپنے ترجمان ”سامنا“ کے اداریہ میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ مرکز غیربی جے پی جماعتوں کی زیراقتدار ریاستوں کو غیرمستحکم کرنے گورنرس کا استعمال کررہا ہے۔

ممبئی: شیوسینا نے مہاراشٹرا کے بشمول تمام غیربی جے پی ریاستوں کے گورنرس پر بدمست ہاتھیوں کی طرح کام کرکے جمہوری دستور، قوانین اور سیاسی کلچر کو اپنے پیروں تلے روندنے کا الزام عائد کیا۔

مہاراشٹرا کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کا نام لیے بغیر پارٹی نے اپنے ترجمان ”سامنا“ کے اداریہ میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ مرکز غیربی جے پی جماعتوں کی زیراقتدار ریاستوں کو غیرمستحکم کرنے گورنرس کا استعمال کررہا ہے۔

شیوسینا کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت (ایم وی اے) کے گورنر کوشیاری سے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔

کئی مسائل کے علاوہ کوشیاری اپنے کوٹہ سے 12 ارکان قانون ساز کونسل کے تقرر کو منظوری دینے میں تاخیر کے لیے بھی ریاستی حکومت کی تنقید کی زد میں ہیں۔

شیوسینا نے کہا کہ غیربی جے پی ریاستوں کے گورنرس بدمست ہاتھیوں کی طرح ہیں اور ان کے مہوت نئی دہلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

ایسے ہاتھی جمہوری عوامل، قوانین، سیاسی کلچر کو اپنے پیروں تلے روندکر ایک نئی نظیر قائم کرتے ہیں۔

پارٹی نے سوال کیا کہ یہ بات کتنی مناسب ہے کہ گورنرس ریاستی حکومت کو غیرمستحکم کرنے اپنے تمام اختیارات کاصرف اس لیے استعمال کررہے ہیں کیوں کہ یہ حکومت غیربی جے پی جماعتوں نے قائم کی ہے۔

ایسی کوششوں سے ملک کا اتحاد متاثر ہورہا ہے۔ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

مگر ایسا کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس میں ان کے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں۔

ایسے کاموں کے لیے گورنر کے عہدہ کا استعمال دستوری ڈھانچہ کو منہدم کررہا ہے۔

“ شیوسینا نے الزام عائد کیا کہ اگر کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ قومی دارالحکومت میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر سے ہندوستانی جمہوریت پائیدار ہوگی اور پھلے پھولے گی تو انہیں وفاقی حکومتوں کی چیخیں سننی چاہیے جن کو رونددیا گیا۔

 ریاستوں کو صحیح ڈھنگ سے حکومت چلانے نہیں دیا جارہا ہے اور حکمراں جماعت کے ایجنٹس کو ریاستوں میں افراتفری پیدا کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

“ شیوسینا نے کہا کہ مہاراشٹرا کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے ریاست میں خواتین کی سلامتی اور نظم و ضبط کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے مگر اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے گورنر ایسی تشویش کیوں نہیں ظاہر کرتے؟

مہاراشٹرا میں بی جے پی کی خاتون ارکان اسمبلی نے اسی مسئلہ کو اٹھایا ہے مگر دیگر ریاستوں کی خاتون بی جے پی ارکان اسمبلی  مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں ایسی ہی تشویش کیوں ظاہر نہیں کررہی ہیں؟

“ مہاراشٹرا کے مسئلہ پر وہ اتنا واویلا کیوں مچارہی ہیں؟ کیوں کہ یہاں بی جے پی اقتدار میں نہیں ہے اور اُن دونوں ریاستوں میں اس کا اقتدار ہے۔

اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں سادھو کی مشتبہ موت یا خواتین پر حملوں کو ایسا لگتا ہے کہ عمداً نظرانداز کی جارہا ہے۔

ادھو ٹھاکرے کی پارٹی نے غیربی جے پی ریاستوں کے خلاف کیچڑ اچھالنے والے بی جے پی قائدین کو پولیس تحفظ کی فراہمی پر بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.