ممبئی کے 90 پولیس اسٹیشنوں میں نربھیا دستوں کی عنقریب تعیناتی

ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے منگل کو اس سلسلے میں احکام جاری کیے اور کہا کہ تمام پولیس اسٹیشنوں کی موبائیل 5گاڑیوں کا نام ”نربھیا دستہ“ ہوگا۔

ممبئی: 10/ ستمبر کو ساکی ناکہ میں 32سالہ خاتون کی وحشیانہ عصمت ریزی اور سفاکانہ قتل کے بعد پولیسنگ میں اضافہ کے منصوبہ کے تحت شہر کے تقریباً90پولیس اسٹیشنوں میں عنقریب تربیت یافتہ نربھیا دستوں کی تعیناتی اور ”خواتین سلامتی سیل“ کا قیام عمل میں آئے گا۔

 ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے منگل کو اس سلسلے میں احکام جاری کیے اور کہا کہ تمام پولیس اسٹیشنوں کی موبائیل 5گاڑیوں کا نام ”نربھیا دستہ“ ہوگا۔ ہر دستہ‘ سب انسپکٹر، اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر درجے کی خاتون عہدیدار، خاتون کانسٹبل، ایک مرد پولیس ملازم اور ڈرائیورپر مشتمل ہوگا جبکہ اس دستے کی نگرانی اس علاقہ کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر پولیس یا پولیس انسپکٹر کریں گی۔

نربھیادستے کے ارکان کو دو دن کی خصوصی تربیت دی جائے گی اور یہ دستہ اسکولوں کے سیلف ڈیفنس کیمپس، بچوں کے گھروں، یتیم خانوں یا لڑکیوں کے ہاسٹلس کے اطراف گشت کرے گا۔

 اس کے علاوہ عوامی شکایات کی وصولی کے لیے نربھیا باکس بھی نصب کیا جائے گا۔ ساکی ناکہ کی واردات کے فوری بعد چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے نے ریاستی پولیس ہیڈ کوارٹرس کا دورہ کرکے ڈی جی پی سنجے پانڈے کے ساتھ خواتین کے لیے حفاظتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

اس کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار اور ریاستی وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل سے بھی انہوں نے ملاقات کی تھی۔ نربھیا دستے اپنے اپنے علاقوں میں خواتین یا بچوں کی ہراسانی کی خفیہ اطلاعات جمع کریں گے اور پانچ سالوں کے دوران جنسی جرائم کے مرتکبین کی فہرست تیار کرکے ان کی نقل و حرکت کا پتا لگائیں گے۔

تمام پولیس اسٹیشنوں کو اُن تمام غیرمحفوظ علاقوں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی گئی جہاں ماضی میں خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ گشت بڑھانے، سنسان یا پُرہجوم مقامات پر نظر رکھنے کو بھی کہا گیا ہے۔

تمام ایڈیشنل پولیس کمشنریٹس نربھیا دستوں کے ارکان کو پین کیمرے یا دیگر عصری آلات فراہم کریں گے تا کہ حاصل کردہ فوٹیج اور ثبوت کو خواتین کے تعاقب، چھیڑخانی، ہراسانی، استحصال وغیرہ میں استعمال کیا جاسکے۔

یہ دستے تنہا مقیم معمر خواتین پر نظر رکھیں گے اور گشت کے دوران ان سے ملاقات کرکے ان کے مسائل کی یکسوئی کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ ”سکشم“ نامی پہل کے تحت نابالغوں کے لیے علاقائی یا زونل سطح پر کونسلنگ شروع کی جائے گی اور ماہرین نفسیات جنسی حملے کے شکار خواتین اور بچوں کی کونسلنگ کریں گے۔

سلم علاقوں کے خواتین اور بچوں میں پوکسو قانون وغیرہ کے تعلق شعور بیدا کیا جائے گا۔ تا کہ مجرمین کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا ہوسکے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.