مہاراشٹرا میں عبادت گاہوں کی کشادگی، عوام کا ہجوم

عبادت گاہوں کو کھولے جانے کے بعد، آج ریاست بھر میں، حکومتی ہدایات اور کووڈ پروٹوکول پر مکمل عمل کرتے ہوئے مختلف مذہبی سرگرمیوں کو انجام دیا گیا۔ مساجد میں اذانیں دی گئی اور نمازیں ادا کی گئیں۔

ممبئی: کورونا وائرس سے پیدا شدہ، تشویشناک وبائی صورتحال کے باعث، کووڈ۔19 مرض سے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے حکومت نے لاک ڈاؤن لگایا اور مختلف احتیاطی تدابیر کے ذریعہ سے اس مرض کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوشیشیں کی،جو بڑی حد تک کامیاب ہوئیں، اور اسی سبب سے حکومت کی جانب سے اس ضمن میں عوام پر لگائی گئی مختلف پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

 اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے بطور مہاراشٹرا کی ریاستی سرکار نے عبادت گاہوں میں جمع ہونے اور اجتماعی عبادت پر لگائی گئی پابندی کو آج 7 ستمبر سے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد اب مہاراشٹرا میں تقریبا چھ ماہ کے بعد آج تمام مذاہب کی عبادت گاہیں کھول دی گئیں ہیں۔

کووڈ۔19 کی تیسری لہر کے ممکنہ خطرات کے جائزے کے بعد، اس کے اثرات کم ہوتے دیکھائی دینے پر حکومت کی جانب سے لیے گئے ایس فیصلہ پر جہاں ایک طرف عوام نےسکون کی سانس لی اور خوشی کا اظہار کیا ہے وہیں دوسری جانب مختلف مذاہب کی سرکردہ شخصیات اور مذہیب رہنماؤں نے اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اسے دیر سے اٹھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔

عبادت گاہوں کو کھولے جانے کے بعد، آج ریاست بھر میں، حکومتی ہدایات اور کووڈ پروٹوکول پر مکمل عمل کرتے ہوئے مختلف مذہبی سرگرمیوں کو انجام دیا گیا۔ مساجد میں اذانیں دی گئیں ، مندروں میں گھنٹیاں بجائی گئیں ، گرجا گھروں میں گیت گائے گئے ، گرودواروں میں گروانی ، نیز ممبئی اور ریاست کے دیگر حصوں میں دیارسروں ، بدھ وہاروں ، آتش مندروں وغیرہ میں دعائیں کی گئیں۔

تمام مذہبی عبادت گاہوں نے طویل پابندی کے بعد پہلی بار کھولے جانے اور نماز، پوجا اور دیگر مذہبی رسومات کی دائیگی کیلئے آنے والے ہزاروں افراد کیلئے ، عبادت گاہوں کی خصوصی صفائی اور انتظامات کیے گئے۔ جس کے بعد عبادت گاہوں اور درگاہوں میں چندن کی خوشبو ، بخور اور اگربتیوں کی خوشبو پھیل گئی۔

 ممبئ کی مشہور حاجی علی درگاہ، بابا بہاؤالدین کی درگاہ نل بازار میں واقع پھولوں کی مارکٹ کے گل فروش ببلو سید نے بتایا کہ آج جمعرات درگاہ میں ہزاروں عقیدت مندوں نے حاضری دی ۔

مراٹھواڑہ کے آتھوں اضلاع میں بھی عوام نے اس حکومتی اقدام کا خیر مقدم کیا اور بڑے پیمانے پر عبادت گاہوں او درگاہوں پر گئے۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے رکن اور مسلم مجلس مشاورت کے کارگزار صدر مجتبیٰ فاروق ( اورنگ آباد ) نے اس فیصلےکو دیر سے اٹھایا گیا ایک قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” ہم اس فیصلے کااستقبال کرتے ہیں، لیکن حکومت کو جو کام پہلے کرنا تھا وہ سب سے آخر میں کیا گیا۔ پہلے عبادت گاہیں کھولنی چاہیے تھیں جو کہ سماج میں اچھائی اور ایک مثبت رخ کے فروغ میں ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ انھیں بعد میں کھولا گیا۔

 اسی طرح اورنگ آباد ‘مسلم نمائیدہ کونسل’ کے صدر ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ یہ بہت ہی ضروری تھا کہ حکومت جلد ہی یہ فیصلہ لیتی، کیوںکہ عبادت گاہوں کے بند ہونے کے سبب سماج میں اس کے خراب اثرات پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے شراب خانے پہلےکھولے اور بعد میں عبادت گاہوں کو کھلا۔

ممبئی کے گورڈین وزیر اسلم شیخ نے وسطی ممبئی کی ماہم درگاہ میں نماز ادا کی۔ ان کے علاوہ دیگر وزراء نے مختلف عبادت گاہوں میں مشہور شخصیات اور عام لوگوں کے ساتھ اپنے اپنے عقائد کے مطابق عبادت کی ۔

 اسی طرح چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے اپنی اہلیہ رشمی اور بیٹے آدتیہ کے ساتھ جو کہ وزیر سیاحت ہیں ، جنوبی ممبئی کے مشہور ممبادیوی مندر میں پوجا کی جبکہ نائب چیف منسٹر اجیت پوار نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اور وزیر جینت پاٹل کے ساتھ پربھادیوی کے شری سدھی ونایک گنپتی مندر میں پوجاکی۔

دریں اثناء عبادت گاہوں کے کھلنے سے مقامی معیشتوں کو تقویت ملی ، ہزاروں دکاندار مذہبی کتابیں، مقدس پانی کی بوتلیں، جھنڈے، چادر، پھول، پرساد، پوجا،تصاویر، موم بتیاں ،چراغ اور دیگر عقیدت سے متعلقہ مواد بھی گاہکوں کو فروخت کرتے نظر آئے، جبکہ گرودواروں نے اپنے روایتی ‘لنگروں’ اور کچھ درگاہوں میں عقیدت مندوں کے لیے ‘نیاز’ تیار کیا گیا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.